Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

(God conference) کے نام سے دنیا کے مختلف ملکوں میں کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ انڈیا میں یہ ان کی پہلی کانفرنس تھی۔ موجودہ زمانہ میں ہر مذہب، ہر گروہ میں اس کی روایات کا احیا ہو رہا ہے۔ دوسرے مذاہب میں بھی اور اسلام میں بھی۔ البتہ یہاں ایک فرق ہے۔ لوگوں سے گفتگو کے دوران میں نے پایا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ عمومی احیاِ مذہب کی اس لہر کو زمانہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اس کو اپنے اپنے اکابر کے کارنامہ کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اسلامی عبادت کا پردہ ام ۴ نومبر کی صبح کو جناب فیروز پوونہ والے نے کیا۔ اس میں انھوں نے صرف تلاوتِ قرآن کولیا۔ پہلے قرآن کا ایک حصہ خوش الحانی کے ساتھ پڑھا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ سنایا۔ مزید انھوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کا انگریزی ترجمہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اسلامی عبادت کی تشریح کی۔ اور عبادت کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کی۔ تمام حاضرین نہایت غور کے ساتھ اس کو سنتے اور دیکھتے رہے۔ بعد کو کانفرنس کے کئی شرکانے قرآن کے مطالعہ سے دلچسپی ظاہر کی اور قرآن کا انگریزی ترجمہ طلب کیا۔ ۵ نومبر کی صبح کو مسیحی عبادت (christian prayer) کا دن تھا۔ سب سے پہلے ایک بڑے شمع دان پر کئی موم بتیاں جلائی گئیں۔ اس کے بعد اسٹیج پر ایک مسیحی مرد اور دوسری خاتون آئیں۔ انھوں نے باری باری انجیل (انگریزی) کے کچھ حصے پڑھے۔ اس کے بعد ملے ہوئے کمرہ سے ایک مرد اور ایک خاتون برآمد ہوئے۔ ان کے ساتھ ہارمونیم اور طبلہ تھا۔ انھوں نے ہندی اور بنگالی میں بھجن گائے اور ہارمونیم اور طبلہ بجایا۔ آج بھی مجھے دوبارہ وہی احساس ہوا جو ہند و ہند و عبادت کے دن ہوا تھا۔ مسیحی عبادت مجھے عبادت سے زیادہ ایک سماجی تقریب نظر آئی۔ ایک فرد کی فطرت اپنے آپ کو خدا کی پرستش میں شامل کرنا چاہتی ہے، مگر یہ مقصد ان عبادتی تقریبات کے ذریعہ حاصل نہیں ہوتا۔ آج صبح کی میٹنگ میں مذہبی فتد رول کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ میں نے کہا کہ اسلام میں اصل اہمیت ”اسپرٹ“ کی ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں انھیں باتوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے جن کا تعلق روح یا اسپرٹ سے ہے۔ ظاہری نوعیت کی احکامی آیتیں قرآن میں نسبتاً کم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page