Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹرین بھی بمبئی کے رخ پر جارہی تھی۔ متوازی لائن پر اس ٹرین کے آنے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے ہماری ٹرین پیچھے کی طرف جارہی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں ایسا محسوس ہوا کہ مقابل کی الیکٹرک ٹرین آگے جارہی ہے اور ہماری ٹرین پیچھے کی طرف سفر کر رہی ہے۔ یہ صرف نگاہ کا دھوکا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ٹرینیں ایک ہی رخ پر بمبئی کی طرف دوڑ رہی تھیں مگر مقابل کی ٹرین کی رفتار چوں کہ تیز تھی اس لئے ظاہری تقابل میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ ٹرین آگے کی طرف جارہی ہے اور ہماری ٹرین پیچھے کی طرف۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ظاہری مشاہدہ اور حقیقی واقعہ میں بعض اوقات کتنا بڑا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ حقیقت و واقعہ کے اعتبار سے ایک چیز مشرق کی طرف جارہی ہوتی ہے اور بظاہر دیکھنے والے کو ایسا نظر آتا ہے گویا کہ وہ چیز مغرب کی طرف چلی جارہی ہے۔ اس لئے آدمی کو محض ظاہری مشاہدہ کی بنیاد پر کبھی کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ ۷ نومبر کی شام کو 8 بجے ہماری ٹرین بمبئی وی ٹی پہنچ گئی۔ یہاں سے ساتھیوں کے ہمراہ ڈاکٹر عبدالکریم نائیک صاحب کے مکان (مجگاؤں) پہنچا۔ بمبئی میں میرا قیام انھیں کے یہاں رہا۔ یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کے حالات سن کر معلوم ہوا کہ ان کو ایک بڑا نقصان پیش آیا۔ جس کا ان کے اوپر اتنا اثر ہوا کہ ان کی صحت تباہ ہوگئی۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ قبول کریں تو میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ پھر ان کی اجازت سے میں نے ایک کاغذ لے لیا۔ اس پر یہ جملہ لکھ کر انھیں دیدیا ــــــــــ آپ اپنے معاملہ کو غم کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے انتظار کے خانہ میں ڈال دیجئے ۔ روزانہ صبح اور شام کو مقامی احباب رہائش گاہ پر آتے رہے اور ان سے سوال و جواب کی صورت میں گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں میں انتہائی پرامید ہوں۔ ان کے بارہ میں قرآن کی یہ آیت صادق ہوتی نظر آتی ہے : کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله (البقره ۲۴۹ ) اس آیت میں خدا کا یہ قانون بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ فئة قلیلۃ اکثر فئة کثیرہ پر غالب آتا ہے۔ ایک عرصہ تک مسلمان سیاسی جوش و خروش و خروش میں اپنی قوتیں ضائع کرتے رہے۔ اب حالات کا دباؤ مسلمانوں کو صحیح رخ دے رہا ہے۔ وہ سیاست کے محاذ سے ہٹ کر تعمیر کے میدان میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page