Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

سرگرم عمل ہو رہے ہیں ۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ اس وقت "ہم مکّی دور" میں ہیں اور ہم مکی دور میں اترنے والے احکام کے مخاطب ہیں۔ آپ کس بنیاد پر ایسا کہتے ہیں جب کہ اب مکمل قرآن اتر چکا ہے اور وہ آج مکمل صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات قرآن کے اصول تکلیف (لا يكلّف الله نفساً إلّا وسعها) سے نکلتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان یا کسی جماعت کے اوپر قرآن کے احکام کا انطباق باعتبار وسع ہے نہ کہ باعتبار تنزیل۔ حج اور زکوٰۃ کے احکام اتر چکے ہیں۔ مگر ان احکام کی فرضیت صرف ان افراد کے اوپر ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔ یہی معاملہ تمام احکام کا ہے۔ آدمی جس حکم کی تعمیل کی استطاعت رکھتا ہو اس کا وہ مکلف بن جائے گا۔ اور جس حکم کی وہ استطاعت نہ رکھتا ہو اس کا وہ مکلف نہیں بنے گا۔ ۷ نومبر کو مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد پونہ کی مکہ مسجد میں عمومی خطاب ہوا۔ موضوع رکھا گیا تھا: حالات حاضرہ اور مسلمان ۔ میں نے کہا کہ اس عنوان کا میرے نزدیک دو پہلو ہے۔ ایک، مشکلات حاضر اور مسلمان ۔ اور دوسرا، امکانات حاضرہ اور مسلمان ۔ اس کے بعد تفصیل سے میں نے بتایا کہ بلاشبہ ہمارے لئے کچھ مشکلات ہیں۔ مگر اس قسم کی مشکلات ہر سماج میں اور ہر ملک میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ مزید مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ امکانات کی مقدار مشکلات کی مقدار سے ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے اور آج بھی بہت زیادہ ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ۔ ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ امام صاحب نے نماز پڑھانے پر اصرار کیا۔ مگر میں نے نماز نہیں پڑھائی ۔ بلکہ امام صاحب کو پکڑ کر انھیں آگے کر دیا۔ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ میرے ساتھ ایسا بار بار پیش آتا ہے۔ جب بھی میں کہیں جاتا ہوں تو جس مسجد میں نماز کے لئے داخل ہوتا ہوں اس کے امام صاحب نماز پڑھانے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ درست نہیں۔ زیادہ درست طریقہ یہ ہے کہ مقامی امام ہی نماز پڑھائے۔ حدیث کی مشہور کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب الصلاة کے تحت امامة الزائر کا ایک مستقل باب ہے ۔ ابو عطیہ تابعی کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث ہماری مسجد میں آئے۔ جب نماز کھڑی ہوئی تو ہم نے ان سے کہا کہ آگے آئیے اور نماز پڑھائیے ۔ انھوں نے کہا کہ تم اپنے میں سے کسی شخص کو کھڑا کرو اور وہ نماز پڑھائے۔ پھر میں تم کو بتاؤں گا کہ میں کیوں ایسا کرتا ہوں۔ اس کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page