پونہ کا سفر
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں بلکہ در حقیقت جن سنگھی ذہنیت اور انگریزوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ بمبئی کے اردو اخبار کے مذکورہ اداریہ کا عنوان تھا: "مسلمان کیا کریں" اس کو دکھاتے ہوئے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ جو مسلم دانشور پچاس برس میں یہ بھی طے نہ کر سکے کہ پاکستان کس نے بنایا وہ "مسلمان کیا کریں" کے بارہ میں قوم کو کیسے کوئی درست رہنمائی دے سکتے ہیں۔ بمبئی کے ٹائمز آف انڈیا (۳ نومبر ۱۹۹۱) میں ایک جرنلسٹ راج دیپ سردیسائی کے قلم سے ایک دلچسپ مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا ـــــ طاقتور تلوار، اس سے بھی زیادہ طاقتور قلم: Mighty sword, mightier pen. اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ شیو سینا نے ایک عرصہ تک تلوار (تشدد) کے وسیلہ پر اعتماد کیا۔ مگر یہ ذریعہ اس کے لئے زیادہ مفید نہ ہو سکا۔ چنانچہ اب خود شیو سینا کے اپنے اخبار مارننگ نے لکھا ہے کہ ہمیں پریس کی طاقت کو استعمال کرنا چاہئے ۔ شیو سینا کے آرگن نے اردو شاعر کے شعر کو کسی قدر فرق کے ساتھ نقل کیا ہے کہ کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، گر توپ مقابل ہے تو اخبار نکالو: Do not remove a sword, When even a cannon becomes useless, bring out a newspaper. (p.13) ۱۰ نومبر کو ۱۰ بجے بمبئی میں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا انتظام پائیکر ہال میں کیا گیا اور اس کا عنوان تھا ” محمدﷺ ــــ پیغمبر انقلاب ۔ اس موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تقریر ہوئی۔ اس کے بعد آدھ گھنٹہ تک سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ حاضرین میں مسلم اور غیر مسلم دونوں موجود تھے۔ آج کا دن کسی سنجیدہ اجتماع کے لئے بہت بہت غیر موزوں تھا۔ کیوں کہ آج اتوار تھا اور آج ہی کھیل کا میچ تھا اور جب اس قسم کا میچ ہو تو تمام لوگ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مگر وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ جناب ہارون رشید (چیف ایڈیٹر بلٹنر) نے کہا کہ یہ منظر دیکھ کر مجھے تعجب انگیز خوشی ہورہی ہے۔ اس پروگرام کی پروفیشنل انداز میں معیاری ویڈیو ریکارڈنگ کرائی گئی۔ اس کا ویڈیو اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (بمبئی) کے پاس موجود ہے۔ ۱۰ نومبر کی ہی پہر کو پالی کی مسجد میں نماز مغرب کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریبًا آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر ہوئی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جو حالات ہیں وہ بہت امید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader