پونہ کا سفر
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ جلسہ جلوس کی سیاست کے ذریعہ ہند و عوام کو بھڑکاتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کا معاملہ ہندو تعلیم یافتہ طبقہ کے ہاتھ سے نکل کر ہندوؤں کے جاہل طبقہ کے پاس چلا جاتا ہے اور جاہل طبقہ خواہ وہ ہندوؤں کا ہو یا غیر ہندوؤں کا وہ عقلی بنیاد پر سوچ کر اپنا طرز عمل متعین نہیں کرتا بلکہ اندھے جذبات کے تحت اپنا طرز عمل متعین کرتا ہے۔ یہی وہ غلط سیاست ہے جس کا برا انجام اس وقت مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے۔ مولانا سید نور ابراہیم (۲۸ سال) پونہ کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ ۱۹۷۸ء میں یہ واقعہ ہوا کہ انھوں نے ایک مطبوعہ اردو اعلان مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس اعلان میں "آرگنائزیشن " کا لفظ تھا وہ اس کا صحیح تلفظ نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھیں احساس ہوا کہ میں نے مدرسہ سے عالم کی فراغت حاصل کر لی مگر انگریزی سے میں اتنا زیادہ بے بہرہ ہوں کہ انگریزی کا ایک لفظ جو اردو خط میں چھپا ہوا ہے اس کو میں پڑھ نہیں سکتا۔ یہ سوچ کر ان کے اندر غیرت آئی۔ بازار سے انھوں نے انگریزی کتا ہیں حاصل کیں اور بطور خود انگریزی پڑھنا شروع کیا۔ اب ذاتی کوشش سے انھوں نے اتنی انگریزی سیکھی ہے کہ وہ رسالہ انگریزی پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لیتے ہیں۔ وہ ہر مہینہ باقاعدہ طور پر انگریزی الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ناپسندیدہ واقعہ سے اگر منفی اثر لیا جائے تو وہ تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اور اگر ناپسندیدہ واقعہ سے مثبت اثر لیا جائے تو وہ آدمی کے لئے ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔ پچھلے ماہ میں تقریباً دو ہفتہ کے لئے لاہور میں تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ تقریباً ہر مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام مسٹر محمد علی جناح کا کارنامہ ہے۔ پاکستانی دانشوروں کے نزدیک ہند و لیڈر شپ کسی طرح پاکستان بننے دینا نہیں چاہتی تھی۔ یہ مسٹر جناح کی عظیم قیادت تھی کہ انھوں نے ہندو لیڈروں کو پاکستان کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ مگر ہندوستان کے مسلم دانشوروں کا خیال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو مسلمانوں نے نہیں بنوایا بلکہ ہندوؤں نے بنوایا۔ بمبئی کے زمانہ قیام میں یہاں کے ایک اخبار انقلاب (۹ نومبر ۱۹۹۱) نے اپنے اداریہ میں لکھا تھا ___ مشہور ماہر قانون اتپک ایم سروائی نیز دیگر محققین نے اپنی متعدد تصانیف میں یہ بات ثابت کر دی ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی وجہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader