Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 304

By Maulana Wahiduddin Khan

ان نام نہاد لیڈروں میں یہ فرق تو ضرور ہے کہ ان میں سے کوئی مخلص ہے اور کوئی غیر مخلص، مگر نااہلی کے اعتبار سے ایک اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یہ لوگ پچاس سال سے غیر معمولی سرگرمیاں دکھارہے ہیں۔ مگر حالت یہ ہے کہ ہر اگلا دن مسلمانوں کے لیے زیادہ برادن بن کر سامنے آرہا ہے۔ لیڈروں کی طوفان خیز سرگرمیوں کے درمیان مسلمانوں کی مصیبتوں میں صرف اضافہ ہو رہا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو بھی مصیبت تمہارے اوپر آتی ہے وہ تمہارے اپنے کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس خدائی قانون کی روشنی میں دیکھیے تو مصیبتوں کے اضافہ کی کوئی بھی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ نااہل قسم کے لیڈر ہر روز نیا فتنہ کھڑا کر کے مسلمانوں کو نئے مسائل سے دوچار کر دیتے ہیں۔ اگر آپ پچھلی مصیبتوں کو برطانیہ کے خانہ میں ڈالیں تو بعد کی ان ناقابل بیان مصیبتوں کو کس کے خانہ میں ڈالا جائے گا جو برطانی اقتدار کے خاتمہ کے بعد انہیں خود ساختہ لیڈروں کے دور قیادت میں پیدا ہوئی ہیں۔ ایک گاندھی وادی نے گفتگو کے دوران پرجوش طور پر کہا کہ جس طرح غلام انڈیا کے لیے ایک گاندھی کی ضرورت تھی ، اسی طرح آزاد انڈیا کے لیے بھی ایک گاندھی کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ یہ شکلی بات نہیں ، یہ صرف آدھی بات ہے۔ آزاد انڈیا کو خود وہی گاندھی دوبارہ مل گیا تھا ۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ غلام انڈیا نے جس گاندھی کو ہیرو بنایا تھا ، آزاد انڈیا نے اسی گاندھی کو مار ڈالا۔ اس سلسلہ میں سرٹامس جونز (Thomas Jones) کی ڈائری سے ایک دلچسپ واقعہ معلوم ہوا ہے۔ سر ٹامس برٹش کیبنیٹ کے سکریٹری تھے۔ ڈاکٹر مان (Dr. Mann) ایک انگریز افسر کی حیثیت سے ہندوستان آئے۔ وہ بمبئی میں ڈائرکٹر آف ایگریکلچر تھے۔ ۱۹۴۲ء میں وہ یہاں سے ریٹائر ہوکر انگلینڈ واپس گئے۔ وہاں ان کی ملاقات سرٹامس جونز سے ہوئی۔ انھوں نے ڈاکٹر مان سے پوچھا کہ ۳۱ ملین ہندوستانیوں میں سے کتنے لوگوں نے گاندھی کو سنا ہے۔ ڈاکٹر مان نے جواب دیا کہ ۳۰.۹ ملین آدمیوں نے۔ مہاتما گاندھی آزادی سے پہلے انتہائی مقبول لیڈر تھے۔ مگر آزادی کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ انھوں نے خود اپنے بارہ میں یہ کہا کہ اب میری کون سنے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page