بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
مظلوم کو رہا کرانا ہی خدا کی سچی عبادت ہے۔ وہ نہ اخبار میں پریس اسٹیٹمنٹ دیتے اور نہ جلسہ کرتے۔ بس خاموشی کے ساتھ یہی کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک روز وہ صبح کو ٹہلنے کے لیے نکلے تو فٹ پاتھ پر ایک آدمی روتا ہوا نظر آیا۔ انھوں نے اس کا حال پوچھا، اس نے بتایا کہ میں ایک مزدور آدمی ہوں، کل میں نے مزدوری کر کے چالیس روپیہ کمایا۔ آٹھ روپیہ میں شام کا کھانا کھایا۔ اور باقی ۳۲ روپیہ جیب میں لے کر آرہا تھا کہ گشت کرنے والے پولیس نے مجھ کو پکڑ لیا۔ کہا کہ رات میں تم کہاں گھوم رہے ہو۔ اس نے مجھے دو ڈنڈٹے لگائے اور میرا پیسہ چھین لیا۔ موہن لال اس کو لے کر فوراً قریب کے پولیس اسٹیشن میں گئے۔ وہاں ایس ایچ او نہیں تھا۔ تھانہ انچارج نے کچھ الٹی بات کی تو اس کو ڈانٹ کر کہا کہ ٹھیک سے بات کرو، اس وقت میں خدا کی طرف سے اسپیشل ڈیوٹی پر ہوں“۔ آخر میں اس نے کہا کہ جس روڈ پر یہ واقعہ ہوا ہے وہ فلاں ستھانہ میں پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ مزدور کو لے کر دوسرے تھانہ میں گئے۔ وہاں بھی ایس ایچ او نہیں تھا۔ انھوں نے لڑبھڑ کر وہاں رپورٹ درج کرائی۔ اس کے بعد رپورٹ لے کر ایک واقف کار پولیس افسر کے یہاں گئے۔ اس سے ٹیلی فون کر دایا۔ اس کے بعد مزدور کو اپنے گھر لے گئے۔ اس کو کھلایا پلایا۔ اور پھر دوبارہ مذکورہ خانہ پر پہنچے۔ تھانہ انچارج نے مزدور سے کہا کہ یہ پچاس روپیہ لو اور جاؤ، اپنا کام کرو۔ موہن لال دوبارہ بگڑ گئے کہ میں تم سے خیرات لینے نہیں آیا ہوں ۔ تم ملوث کانسٹیبل کو بلاؤ اور اس سے اس کے ۳۲ روپیہ دلواؤ۔ آخر کار پولیس والے نے مزدور سے معافی مانگی اور اس کی رقم اسے واپس کر دی۔ اس طرح کے چھوٹے بڑے کام وہ ہر روز کرتے رہتے ہیں۔ اور جب تک پورا کام نہ ہو جائے وہاں سے نہیں ہٹتے۔ اسی کا نام ہے مظلوم افراد کی داد رسیکرنا۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کے بارہ میں میری رائے نہایت سخت ہے۔ یہ لوگ اپنی نا اہلی کو قوم کے اوپر انڈیلے ہوئے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مسائل کے نام پر قوم کو بھڑ کا کرتے ہیں۔ حالانکہ سچا لیڈر وہ ہے جو مواقع کی نشاندہی کرے اور لوگوں کو اس قابل بنائے کہ وہ مواقع کو استعمال کر کے آگے بڑھ سکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader