Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

رشی کیش کا سفر ماسکو میں ایک عالمی ادارہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کلچر کے ذریعہ لوگوں کے درمیان امن واتحاد پیدا کیا جائے ۔ اس روسی ادارہ کی اسپانرشپ میں ہندوستان کے مشہور مذہبی مقام رشی کیش میں ایک بین اقوامی عالمی کانگریس روحانی اتحاد کے لیے ہوئی ۔ اس کا عنوان یہ تھا : The World Congress of spiritual concord اس کانگریس کی دعوت پر رشی کیش کا سفر ہوا۔ اور وہاں مختلف پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ دسمبر ۱۹۹۳ء کو صبح ۹ بجے مسٹر ورگھیز (S. Raphael Verghese) کے ساتھ گھر سے روانگی ہوئی ۔ نئی دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر صفائی محکمہ کی طرف سے ایک بڑا سا بورڈ لگا ہو نظر آیا۔ اس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا ــــــــ آپ کا کوڑا آپ کی ذمہ داری : Your dirt, your responsibility میں نے سوچا کہ یہ ہی زندگی کا عام اصول ہے۔ ہر آدمی اپنی سرگرمیوں کے درمیان کچھ کوڑا پیدا کرتا ہے ۔ قدرت کا قانون ہے کہ وہ اس کی صفائی کو خود اپنی ذمہ داری سمجھے ۔ صاف ستھری دنیا بنانے کے لیے اس کے سوا دوسری کوئی بھی ممکن تدبیر نہیں ۔ گھر سے بذریعہ کار چل کر پہلے رشین سنٹر آف سائنس اینڈ کلچر پہنچے ۔ یہاں دوسرے ساتھیوں کی آمد کے انتظار میں ٹھہرنا تھا۔ اس سنٹر میں ایک بار میں اس وقت آیا تھا جب کہ سوویت یونین ابھی قائم تھا۔ اب آج دوسری بار آنا ہوا جب کہ سوویت یونین ٹوٹ چکا ہے۔ پہلے یہاں زبردست سرگرمی اور چہل پہل نظر آتی تھی ۔ سنٹر کی عظیم بلڈنگ اور اس کا وسیع لان بدستور اسی طرح موجود تھا۔ مگر اب یہاں سناٹے کا منظر دکھائی دیا۔ ریسپشن میں ایک مرد اور ایک عورت بالکل خالی، اور غیر مصروف حالت میں اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے لیے یہاں کوئی کام نہیں ۔ بلڈنگ تو پیسہ کے ذریعہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ مگر زندگی کی سرگرمیوں کے لیے تخلیقی انسان درکار ہیں۔ اگر تخلیقی انسان نہ ہوں تو بڑی بڑی بلڈنگیں ہوں گی مگر وہاں موت جیسا سناٹا چھایا ہوا ہوگا۔ یہی آج مسلم دنیا میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ پٹرول کے ظہور کے بعد مسلم دنیا میں پیسہ کی افراط ہوگئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page