بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
گنا قدرت کی ایک پیداوار ہے۔ اس کے اندر رس بھرا ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ چھلکے کی بڑی مقدار بھی اس میں شامل رہتی ہے۔ گنے کو مشین میں ڈال کر دباتے ہیں۔ اس طرح اس کا رس نکل کر باہر آ جاتا ہے ۔ اور سوکھا چھلکا الگ ہو جاتا ہے۔ گنے سے رس لینے کے لیے اس کے اوپر شدید دباؤ کا عمل ضروری ہے۔ اس کے بغیر اس کا میٹھا رس حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان بظاہر ایک جسمانی وجود ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر غیر معمولی اخلاقی، روحانی اور فکری قوتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ان قوتوں کو ظہور میں لانے کا واحد فطری طریقہ یہ ہے کہ انسان کو دباؤ کے عمل سے گزارا جائے۔ یہ خدا کا مقرر کیا ہوا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں کسی فرد یا کسی قوم کو اگر دباؤ کے حالات پیش آئیں تو یہ اس کے اوپر خدا کی عنایت کا نشان ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا اس کو چھلکے کے درجہ سے اٹھا کر رس کے درجہ میں پہنچانا چاہتا ہے۔ رشی کیش کے علاقہ میں داخل ہوئے تو رات ہو چکی تھی۔ معلوم ہوا کہ حسب قاعدہ گنگا کا پل بند ہو چکا ہے۔ اب ہم کو دریا کے اس پار ایک ہوٹل میں رات گزارنا ہوگا۔ کل صبح کو پل کھلنے پر گنگا پار کر کے آشرم میں پہنچیں گے جہاں کانگریس کی کارروائیاں ہونے والی ہیں، مگر کچھ لوگ ہمت نہیں ہارے۔ وہ پل کر پل کی اتھارٹی سے ملے۔ اس کو بتایا کہ یہ ایک انٹرنیشنل قافلہ ہے جو روحانی اجتماع کے لیے یہاں آیا ہے۔ وہ لوگ مطمئن ہو گئے اور انھوں نے پل کا گیٹ خصوصی طور پر کھول دیا۔ رشی کیش پہنچنے کے بعد پہلے ہم لوگ ایک بڑے شامیانہ میں لے جائے گئے یہاں فادر گریگوریوز نے وہیل چیپر پر بیٹھ کر تمام مہمانوں کا سواگت کیا۔ یہاں تمام لوگ تقریباً ایک گھنٹہ تک ٹھہرے ۔ اور آپس میں ملاقاتیں کیں۔ ہمارے قافلے کے ایک صاحب جرمنی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نام ولی (Willy Augustat) تھا۔ وہ انگریزی روانی کے ساتھ بول رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کا نفرنس میں جرمنی سے کئی لوگ آئے ہیں۔ چار تو خود ان کے اپنے گھر کے ہیں (وہ اور ان کی بیوی اور ان کی لڑکی اور ان کا لڑکا) یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ انڈیا پر ایک جرمن حملہ (German invasion) ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں، مگر یہ ایک روحانی حملہ (spiritual invasion) ہے اور سچا روحانی حملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں باہر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا داخل ہونا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader