Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

ولی اگسٹ (8106-33903 (0) .Tel) یورپ میں پس تھرو کلچر کے پریذیڈنٹ ہیں۔ اور نہایت زندہ دل آدمی ہیں۔ وہ اگر چہ روانی کے ساتھ انگریزی بول رہے تھے۔ مگر انھوں نے کہا : مجھے انگریزی نہیں آتی۔ بس کام چلانے کے لیے بول لیتا ہوں۔ ایک سوامی جی نے ”حقیقت“ کی تشریح کرتے ہوۓ کہا کہ ھم میں سے ہر شخص ایک عظیم کل کا ایک جز ہے : Everyone of us is a part of the great whole. میں نے کہا کہ یہ حقیقت کا وہ بیان ہے جو آریائی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ مگر سامی مذاہب کا بیان اس سے مختلف ہے۔ سامی مذاہب کے نزدیک ہم اور کائنات کی دوسری تمام چیزیں خالق کی مخلوق ہیں نہ کہ خالق کا جز۔ پہلی تشریح میں خالق ہم سے الگ نہیں ہے، جب کہ دوسری تشریح میں خالق مکمل طور پر ہم سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتا ہے۔ ایک صاحب سے بات ہوئی۔ وہ مجھ کو جانتے نہیں تھے۔ انھوں نے مذاق کے انداز میں کہا کہ ہندو ازم زیادہ پرانا مذہب ہے اور اسلام کی تمام باتیں ہندو ازم میں موجود ہیں۔ پھر آپ لوگ ہندو ازم کو کیوں نہیں لے لیتے۔ اس طرح آسانی سے ریلیجس ہارمنی پیدا کی جاسکتی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر میں اس کو الٹ کر یہ کہوں کہ اسلام زیادہ لیٹسٹ ہے اور مذہب کا ریوانز ڈ ایڈیشن ہے ، اس لیے دوسرے قدیم مذہب والوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کو اختیار کر لیں۔ اس طرح وہ ناقص کو چھوڑ کر کامل کو پالیں گے ، تو آپ میری اس بات کے جواب میں کیا کہیں گے۔ وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے ۔ اس طرح کی باتیں مختلف لوگوں سے ہوتی رہیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کو ایسی آواز تو بہت اپیل کرتی ہے جس میں اپنی موجودہ جگہ چھوڑے بغیر کوئی کریڈٹ مل رہا ہو۔ مثلاً موجودہ کانگریس میں ہر آدمی اپنے مذہب کے ساتھ شریک ہو رہا ہے۔ اپنے مذہب سے ہٹے بغیر اس کو ایک نیا اطمینان حاصل ہو رہا ہے کہ اس نے عالمی روحانی اتحاد کے لیے کام کیا۔ مگر ایک ایسی آواز کو اپیل نہیں کرتی جس میں اس کو اپنی موجودہ پوزیشن چھوڑنی پڑے۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوۓ آخر کار رات کو ۹ بجے میں پر مارکھ نکیتن آشر من میں پہنچا جہاں مجھ کو ٹھہرنا تھا۔ یہ انڈیا کا سب سے بڑا آشر م ہے اور سوامی چید اند اس کے چیر مین ہیں۔ یہاں شام کا کھانا کھایا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page