پونہ کا سفر
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
بنے کچھ دن پہلے بمبئی میں اگر یہ کہا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے جھگڑا کرنے سے اوائڈ کرنا چاہئے، جھگڑے کو اوائڈ کرنے کا مطلب اپنے حق پر پانی ڈالنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــ آگے بڑھنے کا موقع ڈھونڈ لو۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان لیڈر آج تک فرقہ وارانہ معاملوں پر بحث کرتے رہے لیکن اس دیش میں مسلمانوں کے لئے آگے بڑھنے کے کتنے مواقع حاصل ہیں اس بارہ میں کبھی چرچا نہیں کی جاتی۔ تعلیم اور روزگار یہ اصلی مسائل آج ہماری قوم کے سامنے کھڑے ہیں لیکن ہمارے لیڈر کئی فالتو مسئلوں پر بڑی سرگرمی سے اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان صرف ایک پروٹسٹ کرنے والی اقلیت بن گئے ہیں۔ اس طرح کی امیج کو بدل دینا چاہئے۔ دیش کی ترقی کا کام کرنے والی جماعت، یہ امیج بنانا چاہئے۔ آج تک مسلمان مانگنے والی جماعت بنے رہے۔ اب اس سے آگے بڑھ کر دینے والی قوم کی امیج بنانا چاہئے۔ ترقی کے ہر ایک میدان میں سب سے اچھا کام کرنے والی قوم، یہ امیج بنانا چاہئے۔ اس طرح کے خیالات مولانا وحید الدین خاں صاحب نے ظاہر کئے ہیں۔ ہمارا اسٹر کے مسلمان ان خیالات سے کتنا اثر لیتے ہیں اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔ ہارون بھائی ہوزری والے نے ایک سبق آموز واقعہ بتایا۔ ۴ نومبر کو ایک ہندو بھائی ان کے یہاں سامان خریدنے کے لئے آئے۔ اس دوران انھوں نے اپنی ایک پریشانی کا ذکر کیا۔ ان کو بیٹی سے اندھیری جانا تھا۔ مگر بجلی میں کچھ گڑبڑ ہو جانے کی وجہ سے الیکٹرک ٹرینیں رک گئی تھیں۔ ان کے پاس ایک بڑا قالین تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ تالین لے کر گھر پہنچا ہے۔ اگر ہم ٹیکسی کریں تو وہ سو روپیہ سے زیادہ کرایہ لے گا۔ ہارون بھائی نے کہا کہ آپ قالین ہماری دکان پر رکھ دیں اور کل اس کو یہاں سے منگوالیں۔ انھوں نے کہا کہ کل دیوالی ہے اور اس تالین کو کل تک اندھیری پہنچ جانا ہے۔ ہارون بھائی نے چاہا کہ ریلوے سے انکوائری میں ٹیلی فون کر کے ٹرین کی تازہ پوزیشن معلوم کریں۔ مگر بار بار ڈائل کرنے کے باوجود ٹیلی فون سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ آخر کار ہارون بھائی نے سائیکل کے ذریعہ اپنا آدمی ریلوے اسٹیشن بھیجا۔ وہ پتہ کر کے آیا کہ ٹرینیں چل رہی ہیں۔ وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور اپنا تالین لے کر چلے گئے۔ اس دوران میں جب کہ وہ ہارون بھائی کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے، ہارون بھائی نے انگریزی الرسلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader