پونہ کا سفر
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
کا شمارہ ستمبر 1991 انہیں پڑھنے کے لئے دیا۔ اس میں ایک حدیث پڑھ کر انھوں نے کہا: فاروق فیصل صاحب ( پیدائش 1955) نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الرسالہ بز دلی سکھاتا ہے۔ مگر میرا تجربہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ میری پیدائش سے قبل تقسیم ہند ہوئی۔ حیدر آباد پولیس ایکشن، ملک کے فسادات اور مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوتا تھا کہ ہم مسلمانوں کی تباہی وبربادی کی تاریخ کا آخری حصہ ہیں۔ چنانچہ ایک طرح کی مایوسی دل و دماغ پر طاری ہو گئی تھی لیکن الرسالہ پڑھ کر احساس ہوا کہ ہم مسلمانوں کی تاریخ کی تباہی وبربادی دیکھنے کے لئے نہیں پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی نئی تاریخ کا باب شروع کرنے کے لئے اس دور میں پیدا کئے گئے ہیں۔ کیا اب بھی لوگ یہ کہیں گے کہ الرسالہ بز دلی سکھاتا ہے ۔ میں سمجھتا تھا کہ میں تاریخ کا آخری حصہ ہوں لیکن الرسالہ پڑھ کر احساس ہونا شروع ہوا کہ میں تاریخ کا اول حصہ بننے والا ہوں ۔ تاریخ میرے عمل سے بنے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ اقدام اور حوصلہ مندی سکھاتا ہے نہ کہ بز دلی اور پستی ۔ بمبئی سے ایک انگریزی اخبار انڈپنڈنٹ چھپنا شروع ہوا ہے۔ یہ کافی آزاد اور غیر جانب دار اخبار ہے اور اعلی حلقوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق ٹائمس آف انڈیا گروپ سے ہے۔ اس کے بارہ میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے جناب نسیم علی خاں صاحب نے کہا: انڈپنڈنٹ مسلمانوں کے مسائل سمیت تمام ضروری باتیں غیر جانب دارانہ انداز میں شائع کرتا ہے۔ اب کسی مسلمان لیڈر کو علیحدہ سے مسلمانوں کا انگریزی اخبار نکالنے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود لکھنا چاہیں تو وہ انڈپنڈنٹ کے صفحات کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔ بمبئی میں کئی اخبار کے نمائندوں نے انٹرویو لیا۔ ان میں اردو، مراٹھی، انگریزی اخبارات شامل تھے۔ ڈاکٹر رفیق زکریا بمبئی کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ انھوں نے سلمان رشدی کی کتاب " شیطانی آیات" کے جواب میں ایک کتاب محمد اور قرآن (انگریزی) لکھی۔ اس کتاب کو رشدی کی کتاب ہی کے پبلشر پنگوئین (Penguin Books) نے شائع کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader