Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 321

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مجموعی طور پر صبح ایک گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ ایک صاحب (مصراجی) ٹارچ لے کر صبح کو کمرہ میں چیک کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں ٹھہرنے والے ہر شخص کے لیے رسٹ نگ کے اس پروگرام میں شرکت کرنا لازمی ہے۔ ایک صاحب کے الفاظ میں، یہ یہاں کے باسیوں کے لیے اسپرچول ٹیکس ہے۔ سورج طلوع ہونے کے قریب تھا کہ مندروں سے گھنٹہ کی آوازیں آنے لگیں ۔ گنگا کا پانی یہاں تیزی سے بہتا ہے۔ اس بنا پر اس کی آواز بھی مسلسل رات اور دن سنائی دیتی ہے۔ صبح کو میں اپنے کمرہ سے باہر نکلا تو تیز اور ٹھنڈی ہوا نے استقبال کیا۔ یوروپین لوگوں کے لیے اس قسم کی ہوا بہت خوش گوار تھی۔ مگر میرے لیے وہ زیادہ خوش کن ثابت نہ ہوسکی۔ خواہش کے باوجود میں باہر زیادہ دیر تک ٹہل نہ سکا۔ میرے کمرہ کے قریب بلڈنگ کے ایک حصہ میں جلی حرفوں میں بورڈ لگا ہوا تھا : انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم (آفس) یہ گویا اس بات کی علامت تھی کہ یہ ایک جدید طرز کا آشرم ہے۔ آشرم کے چیرمین سوامی چیدانند کا یہ ایک بڑا حوصلہ مندانہ منصوبہ ہے۔ وہ نہ صرف ہندوازم کی انسائیکلو پیڈیا کی ضخیم جلدوں میں تیار کر رہے ہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ ہندوؤں کو جوڑ کر ایک تھنک ٹینک (Think Tank) بھی انھوں نے تشکیل دیا ہے۔ 6 دسمبر کو صبح کا وقت ہے۔ میں آشرم کی ایک چھت پر کھڑا ہوں۔ چاروں طرف اجالا پھیلا ہوا ہے۔ ہمالیہ پہاڑ کی بلندیاں آشرم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ سامنے گنگا پر شور آواز کے ساتھ بہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں اس کا پاٹ ایک چھوٹی پہاڑی ندی جیسا ہے۔ یہاں وہ اتنی چوڑی نہیں جتنا وہ آگے جاکر ہوجاتی ہے۔ دریا کے کنارے قطار سے کئی مندر بنے ہوئے ہیں۔ پجاری (زیادہ تر عورتیں) آتی ہیں۔ وہ ایک بار گھنٹہ بجا کر اندر جاتی ہیں اور پوجا کی رسم ادا کرتی ہیں۔ یہاں کی ہوا کثافت سے بڑی حد تک خالی ہے۔ اس آشرم کا نام پر مارتھ نیکی تن ہے۔ اس میں بیک وقت پانچ ہزار آدمی ٹھہر سکتے ہیں۔ مختلف معیار کے کمرے بڑی تعداد میں بنے ہوئے ہیں۔ گنگا کے عین کنارے یہ آشرم عملاً ایک صحت گاہ بن گیا ہے۔ یہاں ہندو لوگ اس احساس کے ساتھ آتے ہیں کہ برکت بھی حاصل کریں گے اور صحت بھی۔ رشی کیش کے مختلف حصوں میں گھوم کر دیکھا۔ ہر طرف مندر اور اس سے متعلق چیزوں کے مناظ تھے۔ جگہ جگہ کسی دیوی یا دیوتا کا مجسمہ کھڑا ہوا ہے۔ لوگ پرارتھنا اور پوجا میں مصروف نظر آئے۔ مندروں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page