Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

سوامی جی شریک نہ ہو سکے۔ کیونکہ رات کا کھانا وہ سورج ڈوبنے سے پہلے کھا لیتے ہیں۔ اسی آشرَم میں رات کی نماز پڑھی اور پھر اپنے کمرہ میں سونے کے لیے چلا گیا ۔ میں جب سوامی جی کے کمرہ میں داخل ہوا تو میرے ہاتھ میں صرف کپڑے کا ایک بیگ تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا : آپ کا اور سامان ۔ میں ابھی خاموش تھا کہ سوامی جی جو میرے مزاج کو جانتے تھے ، بولے : مولانا جی تو سچے فقیر ہیں۔ ان کو زیادہ سامانوس سے کیا کام۔ بس یہی کپڑے کا بیگ ان کا سامان ہے۔ سوامی جی سے میں نے پوچھا کہ ہندو روایات میں " فقیر " کا کیا مطلب بتایا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا : جو فکر کا فاقہ کرے اس کا نام فقیر ۔ ۵ دسمبر کی شام کو منزل تک پہنچنے میں کافی دیر ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ مغرب کا وقت نکل گیا۔ سوامی چیداند کے دفتر میں پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ میں نے سوامی جی سے کہا کہ مجھ کو نماز پڑھنا ہے۔ انھوں نے فوراً اپنے خاص کمرہ میں ایک نیا کپڑا مصلیٰ کے طور پر بچھايا۔ وہیں میں نے وضو کیا اور ان کے کمرہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی ۔ میں نے دعا کی کہ خدایا ، تو اس ملک پر اور اس ملک کے بسنے والوں پر رحم فرما ۔ مسلمانوں نے اس ملک کے باشندوں کے ساتھ یہ نادانی کی کہ انھوں نے ان کو رقیب سمجھا، انھوں نے ان کو مدعو نہیں سمجھا۔ خدایا تو اس ملک کے دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول ختم کر دے تاکہ کھلے ماحول میں تیرابینام ایک سے دوسرے کو پہنچنے لگے۔ ٦ دسمبر کی صبح ۵ بجے آنکھ کھلی تو آشرَم کے معمول کے مطابق ، لاؤڈ اسپیکر پر گیتا کے اشلوک پڑھنے جارہے تھے۔ آدھ گھنٹہ تک ترنم کے ساتھ ایک پنڈت جی اس کو سناتے رہے۔ اس کے بعد ایک اور پنڈت جی نے کٹھن ہندی میں اس کی تشریح پر آدھ گھنٹہ تک تقریر کی۔ تشریح میں انھوں نے خاص طور پر چنتن پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ پر ماتا کا کوئی روپ نہیں۔ آخر میں پرارتھنا ہوئی سانز پر " دہرایا گیا اور اس طرح کے دوسرے دعائیہ کلمات ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، ہند عقیدہ کے مطابق ، دیوی دیوتا پر ماتا کی صفات کا مظہر ہیں۔ آدمی انھیں صفات کے ذریعہ پر ماتا سے ربط قائم کرتا ہے۔ اسی لیے ہندو سماج میں دیوی دیوتاؤں کے مندر ہیں۔ مگر ان کے یہاں پر ماتا کا کوئی مندر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page