Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 325

By Maulana Wahiduddin Khan

اس لیے انھوں نے ترجمہ نہیں کیا۔ مقرر پروگرام کے مطابق، سوامی چیداند کے بعد مجھ کو قرآن کا ایک حصہ تلاوت کرنا تھا، میرے نام کا اعلان ہوا تو میں مائک پر آیا۔ اس وقت حاضرین میں زیادہ تر بیرونی ملکوں کے لوگ تھے، اس لیے ساری کارروائی انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ چنانچہ میں نے مائک پر آکر پہلے حسب ذیل الفاظ کہے : The recitation of the Qur'an is a highly professional job. Those people who recite the Qur'an are called Qaris. I am not a Qari in that sense of the word. I am simply a student of the Qur'an.-So I will recite some verses from the Qur'an in a very simple and non-professional manner. اس کے بعد میں نے سادہ انداز میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھیں۔ حاضرین کے چہرہ سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس کو بہت دھیان کے ساتھ سن رہے ہیں۔ اور نہایت ادب اور تعظیم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ خدا کا کلام خود اپنے صوتی آہنگ میں بھی ایک تاثیر رکھتا ہے، خواہ سننے والا اس کو سمجھ رہا ہو یا نہ سمجھ رہا ہو۔ اس کے بعد اچاریہ منی سوشیل کمار نے جین مذہب کی کتاب سے ایک مختصر حصہ پڑھا۔ اس کے بعد سکھ دھرم کی طرف سے ایک مرد اور ایک عورت اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے باجہ کی دھن پر گربانی کا ایک حصہ ترنم کے ساتھ سنایا۔ اس کے بعد مقامی ویدک ادارہ کے طلبہ کی ایک ٹیم گیروے لباس میں آئی۔ انھوں نے مل کر اپنا مذہبی گانا گایا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک مختلف شخصیاتیں اور جماعتیں اسٹیج پر آتی رہیں اور اپنے مذہب کا تعارف پیش کرتی رہیں۔ آخر میں بشپ گریگوریوز نے ایک تقریر کی۔ اس میں انھوں نے کہا کہ حقیقت ایک ہے مگر اس کا اظہار (manifestation) متعدد ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے موجودہ کانگرس کا تعارف پیش کیا، اور بتایا کہ ہم رشی کیش میں کیوں جمع ہوئے ہیں اور ہمیں کیا کرنا ہے۔ تنظیم کے صدر نے روسی زبان میں تقریر کی جس کا ترجمہ ان کے روسی سیکریٹری نے انگریزی میں کیا۔ کانگرس کی کارروائی ۶ دسمبر سے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۳ تک جاری رہی۔ پہلے دن شرکا کا تعارف اور ابتدائی کارروائیوں کے علاوہ ہر مذہب کی مقدس کتابوں کی تلاوت کی گئی۔ ۷ دسمبر کو ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے طریقہ کے مطابق میڈیٹیشن کا مظاہرہ کیا۔ اس میں گیت اور ڈانس بھی شامل تھا۔ ۸ دسمبر کو بھی اسی قسم کے پروگرام جاری رہے۔ ۹ دسمبر کو میڈیٹیشن اور یوگا کے علاوہ لوگوں کو گنگا کے کنارے لے جایا گیا۔ ۱۰ دسمبر کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page