بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ پروگراموں کے علاوہ روحانی پینٹنگ کے نمونے دکھائے گئے۔ ۱۱ دسمبر کو یوگا وغیرہ کے پروگرام کے ساتھ شرکار نے اپنے اپنے تاثرات مختصر طور پر بیان کیے۔ ۱۲ دسمبر کو مختلف مندر دکھائے گئے اور الوداعی تقریب ہوئی۔ یہ مختصر طور پر اس کا نگرس کی روداد تھی۔ تاہم یہ ایک عملی نوعیت کی کانگرس تھی۔ اس کا اندازہ صرف اس کو دیکھ کر ہو سکتا ہے، کاغذی رپورٹ سے اس کا صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس اسپرچول کانگرس میں تقریباً ۲۰۰ آدمی مختلف ملکوں سے آئے ہوئے تھے۔ روس، جرمنی، سوئزر لینڈ، امریکہ، وغیرہ۔ تقریباً نصف تعداد ہندوستانی تھی اور نصف تعداد بیرونی۔ سب کے سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ ان میں سکھ ازم ، ہندو ازم ، جین ازم، بدھرم، مسیحیت وغیرہ ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ کئی لوگوں سے مذہبی عقائد کے موضوع پر گفت گو ہوئی۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ کسی مذہب میں پیدا ہوئے ہوں ان کو ایک دو ملاقاتوں میں کوئی نئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔ حدیث میں ہے کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچپن سے ایک خاص ماحول میں رہتے رہتے آدمی کی سوچ کند ذہن ہو جاتی ہے۔ کسی اور نقطہ نظر کو وہ پڑھ نہیں پاتا۔ اس لیے ضرورت ہے کہ لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ملنا جلنا ہو۔ مختلف مواقع پر تبادلۂ خیال ہوتا رہے۔ اسی کے ساتھ مطالعہ کا سلسلہ بھی جاری ہو۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھل سکتے ہیں۔ کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ایک گفتگو یا ایک ملاقات سے پوری بات سمجھ جائیں۔ اور اس کا اعتراف بھی کر لیں ۔ مگر ایسے لوگ تاریخ میں بہت کم پائے گئے ہیں۔ زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو کسی نئی بات کو دیر سے ہی سمجھتے ہیں۔ سوامی چیداند رشی کیش کے پرمار تھ نکیتن آشرم کے چیر مین ہیں۔ یہ انڈیا کا سب سے بڑا آشرم ہے۔ اس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سوامی جی کا آفس جو کئی کشادہ کمروں پر مشتمل ہے، بالکل جدید طرز پر بنا ہوا ہے۔ وہ جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں تین ٹیلی فون رکھے ہوئے ہیں جس کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی ہے۔ ہندوستان کے مختلف مقامات سے ، اس کے علاوہ یورپ ، آسٹریلیا، امریکہ سے ٹیلیفون آتے رہتے ہیں۔ سوامی جی اس بات کی ایک زندہ مثال ہیں کہ موجودہ زمانہ کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ نیز یہ کہ کس طرح ایک آدمی ایک کمرہ میں بیٹھ کر ساری دنیا سے مربوط رہ سکتا ہے۔ وہ ایک مقام پر بیٹھ کر جدید مواصلاتی ذرائع سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader