بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
مختلف حصوں میں پانچ اہم ایکسپریس ٹرینوں میں رکھے ہوئے بم پھٹے۔ ان سے کئی افراد مر گئے اور بہت سے لوگ زخمی ہو گئے۔ پیٹریٹ (۷ دسمبر) کی سرخی یہ تھی : Blasts mark demolition anniversary بم دھماکہ کا یہ واقعہ بیک وقت بزدلی بھی ہے اور فعل حرام بھی۔ جس نے ایسا کیا ہے، اس کو اگر کچھ کرنا ہے تو وہ مجرموں کے ساتھ کرے۔ ٹرینوں میں سفر کرنے والے بے قصور مسافروں کو بم کا شکار بنانا تو انسانیت کے خلاف بھی ہے اور مذہب کے خلاف بھی۔ رڑکی میں ہمارے ساتھی رستوراں میں چائے پینے کے لیے ٹھہرے۔ میں نے چائے وغیرہ نہیں لی۔ میں باہر ٹہلتا رہا۔ رڑکی میں مسلمان بھی کافی آباد ہیں۔ اتفاق سے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوگئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میں آپ کا الرسالہ پہلے پڑھا کرتا تھا۔ مگر اب میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں سے سبب پوچھا تو انھوں نے کہا آپ آج کل جن باتوں کی تبلیغ کر رہے ہیں ان سے مجھے اتفاق نہیں۔ میں نے مزید تفصیل پوچھی تو انھوں نے اخبارات میں چھپنے والے بعض انٹرویو کا حوالہ دیا۔ میں نے کہا کہ رائے قائم کرنے کا یہ طریقہ اسلام کے خلاف ہے۔ اخباری انٹرویو کے متعلق معلوم ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader