Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

کر رکھے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ نیچر کو مقدس سمجھتے ہیں اس لیے ان کے مذہبی ادارے اکثر کسی پہاڑ یا کسی دریا کے کنارے ہوتے ہیں۔ اپنے عقیدہ کے مطابق ، وہ اس کو نیچر کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ میں ہندوؤں کے مذہبی اداروں میں فطرت کا حسن شامل ہو گیا ہے ۔ بہت سے غیر مذہبی لوگ بھی یہاں فطرت کے ماحول میں کچھ دن گزارنے کے لیے آنا پسند کرتے ہیں ۔ ۷ دسمبر کی صبح کو فجر کی نماز اول وقت پڑھی ۔ اس کے بعد سوامی چیداند سے رخصتی ملاقات کرنے کے لیے ان کے دفتر میں گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے بہت سے مرد اور عورت وہاں چلے آرہے ہیں۔ سوامی جی نے بتایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ آج آپ جار ہے ہیں تو وہ آپ کے درشن کے لیے اور آپ کا آشیرواد لینے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر یورپ کے ملکوں سے تعلق رکھتے تھے۔ مجھے پہلے سے اس کی بابت معلوم نہ تھا اس لیے کچھ سوچا نہ تھا۔ مگر اس وقت فوری طور پر مجھے بہر حال کچھ بولنا تھا چنانچہ انگریزی میں تقریباً ۱۰ منٹ تک ان کے سامنے خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں روحانی اتحاد کے عنوان پر جمع ہوئے ہیں۔ اس نسبت سے چند باتیں میں قرآن کے حوالے سے کہوں گا۔ قرآن میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی صحیح فطرت پر پیدا کیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف، جھگڑے، غلط فہمیاں یہ سب چیزیں انسانی شخصیت کا اصل حصہ نہیں ہیں، یہ سب اوپر ی چیزیں ہیں۔ جہالت، حرص ، تعصب ، کینہ وغیرہ ان کے اسباب ہیں۔ یہ سب چیزیں وقتی طور پر آدمی کی فطرت کو ڈھک لیتی ہیں۔ اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اندر کی یکساں فطرت بے نقاب ہو کر سامنے آجائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی اتحاد تو اپنے آپ سارے انسانوں کے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اوپر کے پردوں کو ہٹا دیا جائے ۔ پردہ ہٹنے کے بعد جو چیز حاصل ہوگی وہ دہی ہو گا جس کو ہم روحانی اتحاد کہتے ہیں ۔ رشی کیش سے دہلی کا سفر ذریعہ کار طے ہوا۔ راستہ میں ہمارے ساتھی چائے پینے کے لیے رکی میں ٹھہرے۔ ہوٹل کا نام گھیرین رستوراں تھا۔ میں گاڑی سے باہر آیا۔ میں نے چائے نہیں لی۔ ہندی اخبار امر اجالا کا شمارہ ۷ دسمبر ۱۹۹۳ دیکھا۔ اس کی پہلی سرخی یہ تھی : پانچ ٹرینوں میں بم پھٹے ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ۶ دسمبر کو ایودھیا میں بابری مسجد ڈھائے جانے کی پہلی برسی پر دیش کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page