Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

اب سابقہ علماء کی طرح موجودہ علماء اور رہنمائوں کو بھی ایک رجوع کی ضرورت ہے۔ اب تک وہ اپنی تحریک مطالبہ بغیر کی بنیاد پر چلا رہے تھے۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ اپنی تحریک کو تعمیر خویش کی بنیاد پر چلائیں جلسوں اور مظاہروں کی دھوم مچانے کے بجائے وہ صرف داخلی استحکام پر اپنی ساری توجہ لگادیں۔ رشی کیش سے دہلی تک دو تعلیم یافتہ ہندو میرے ساتھ تھے۔ سوامی وشومترا (۵۰ سال) اور پنڈت راجیو اگنی ہوتری (۲۵ سال) ان لوگوں سے مذہبی موضوعات پر مسلسل باتیں ہوتی رہیں ۔ سوامی وشومترا ساوتھ انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے پوری گفتگو انگریزی میں ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اسلام پر بہت کم چیزیں پڑھی ہیں۔ بنگلور میں ایک مسلمان نے مجھ کو ایک انگریزی کتاب پڑھنے کے لیے دی تھی۔ اس کو میں نے پورا پڑھا۔ اس کتاب کو پڑھ کر میں متاثر تو نہیں ہوا۔ البتہ مجھ کو غصہ بہت آیا۔ یہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "رسالہ دینیات" کا انگریزی ترجمہ تھا۔ سوامی جی نے اس کتاب کو پڑھ کر کئی صفحات میں اس پر انگریزی میں اپنا تبصرہ لکھ رکھا تھا۔ اس کو انھوں نے اپنے کپڑے کے بیگ سے نکالا۔ اور اس کے مختلف حصے مجھے بتانے شروع کیے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ اپنے مذہب کی برائی کو جانتے ہیں مگر وہ دوسروں کے مذہب کی برائی کو نہیں جانتے : People know the greatness of their own religions, they don't know the greatness of other's religions. میرے پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ اسلام میں پرافت ہوتے ہیں اور ہندو ازم میں رشی ہوتے ہیں۔ رشیوں کا درجہ پرافت سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پرافت کی مثال اس شخص کی ہے جو سمندر کے کنارے کھڑے ہوئے ٹاور پر چڑھ کر سمندر کا مشاہدہ کرتا ہے۔ مگر رشی ٹاور سے سمندر کو دیکھنے کے بعد خود سمندر میں اترے۔ انھوں نے اس کو چکھا اور اس کا تجربہ کیا (they tested and tasted it) میں نے کہا کہ آپ مثال کی زبان استعمال نہ کریں بلکہ حقیقت کی زبان میں تقابل کریں۔ کیوں کہ نہ تو پیغمبر کسی لائٹ ہاوس پر چڑھے اور نہ رشیوں نے کسی سمندر میں غوطہ لگایا۔ اس طرح کی مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کا طریقہ استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے : Analogy is the weakest form of argument.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page