Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر وہ بدستور مثال کی زبان میں بولتے رہے۔ میں نے کہا ، اچھا ، اب اپنا دوسرا پوائنٹ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ دوسرا فرق یہ ہے کہ اسلام میں تو صرف ایک پیغمبر نے کہا جو کچھ کہا۔ مگر ویدوں کی فلاسفی سیکڑوں رشیوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ ویدک سسٹم میں ایک کے بعد ایک سیکڑوں رشیوں نے حقیقت کا تجربہ کیا۔ اس طرح اسلام شخص واحد کی معرفت پر بیس کرتا ہے جب کہ ویدک سسٹم انسانوں کے ایک مجموعہ کے عارفانہ تجربات پر مبنی ہے۔ میں نے کہا کہ مسئلہ ایک کا اور کئی کا نہیں ہے بلکہ اصل بات کے استناد (authenticity) کا ہے۔ پیغمبر خدائی الہام کے حوالے سے بولتا ہے۔ اس لیے اس کا کلام مستند ریفرنس پر قائم ہوتا ہے۔ جب کہ رشی اور منی ذاتی تجربہ کے حوالے سے بولتے ہیں۔ اس قسم کے ذاتی تجربات کے سلسلہ میں اصل سوال اس کا استناد ثابت کرنے کا ہے ، وہ آپ کس طرح ثابت کریں گے۔ اب سوامی جی نے دوبارہ مثالیں دینا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ رشیوں نے زبردست تپسیا کی۔ وہ دکھ جھیلنے (suffering) کے کورس سے گزرے۔ اس طرح انھوں نے سفرنگ کے راستہ سے معرفت حاصل کی۔ انھوں نے مثال دی کہ آپ کو کھانا بنانا ہے تو آپ یہ کہیں گے کہ ایک برتن میں چاول ، دال ، پانی وغیرہ ڈال کر اس کو تیز آنچ پر پکائیں گے۔ اس طرح الگ پر پک کر وہ آپ کے کھانے کے قابل بن جائے گا۔ اسی طرح آدمی جب تلاش کی آگ میں جلتا ہے تو وہ گیان حاصل کر لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ سفرنگ اور دریافت میں کیا رشتہ ہے۔ آپ کو دونوں کے درمیان منطقی رشتہ بتانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی آپ کی بات ثابت شدہ قرار پائے گی۔ کیوں کہ مثال کسی ثابت شدہ بات کی مزید وضاحت میں کار آمد ہو سکتی ہے۔ مگر خود اصل بات کو ثابت کرنے کے لیے مثال قطعا کار آمد نہیں۔ مگر یہ لوگ مثالوں کی زبان میں بولنے کے اتنے زیادہ عادی ہو چکے ہیں کہ وہ سائنٹفک یا منطقی زبان میں اپنی بات پیش کرنا جیسے جانتے ہی نہیں۔ میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اچھا ، اب اپنا اگلا پوائنٹ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ویدک مذہب کی ایک عظیم خصوصیت اس کی لا محدود آزادی ہے۔ آپ آستک ہوں یا ناستک ، آپ کنزرویٹو ہوں یا لبرل ، آپ مورتی پوجا کو مانیں یا نہ مانیں۔ غرض جو بھی آپ کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page