بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 358
By Maulana Wahiduddin Khan
ایر پورٹ کی طرف جاتے ہوئے ہم لودی روڈ سے گزرے۔ یہاں وسیع لودی گارڈن ہے جو دہلی پر لودی خاندان کی حکومت (۱۵۲۶۔۱۴۵۱) کی یاد دلاتا ہے۔ آگے بڑھے تو مقبرہ صفدر جنگ تھا۔ اس وسیع مقبرہ کے اندر ایک چھوٹی سی مسجد بھی شامل ہے۔ صفدر جنگ کا تعلق اٹھارویں صدی کی دہلی سے ہے۔ وہ احمد شاہ کا وزیر تھا۔ احمد شاہ نے ۱۷۴۸ سے ۱۷۵۴ء تک حکومت کی۔ احمد شاہ اور صفدر جنگ دونوں اوسط درجہ کے آدمی تھے۔ ان کا کوئی کارنامہ تاریخ میں درج نہیں۔ دہلی کی حکومتوں میں سب سے لمبا دور مغل سلطنت کا ہے۔ وہ سولہویں صدی کے آغاز میں شروع ہوا، اور اٹھارویں صدی کے وسط تک جاری رہا۔ مسلم حکمرانوں نے کبھی بھی دوسرے مذاہب پر کسی قسم کا جبر نہیں کیا۔ تاہم فطری عمل کے تحت اس زمانہ میں ایسا ہوا کہ اسلام کے گہرے اثرات ہندو مذہب پر پڑے، مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے قدرتی نتیجہ کے طور پر مقامی مذہب متاثر ہوا اور اس میں کافی تبدیلیاں پیدا ہوئیں : The phase of Indian history marked by the domination of the Muslims in most of northern India saw great changes in Indian religion. (8/914) مغل بادشاہوں میں اکبر کافی بدنام ہے۔ مگر مولانا حسین احمد مدنی نے اکبر کے مثبت رول کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ محمود غزنوی کے حملوں کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی جو اسلام کے عمومی تعارف کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ اکبر کا مقصد اسی مانع حالت کو ختم کرنا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے : ”بادشاہانِ اسلام نے اولاً اس طرف توجہ ہی نہیں کی، بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت سے مقابل کرتے رہے، مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اس طرف التفات ہوا، خصوصاً اکبر نے اس خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا، اور اگر اس کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہوجاتے یاکم از کم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور درباسفر و برہمنوں کی یہ چال مدفون ہوجاتی، اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے، اکبر نے نہ صرف اشخاص پر قبضہ کیا تھا، بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔“ (مکتوبات شیخ الاسلام، جلد اول، صفحہ ۱۷۳۔۱۷۴)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader