بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 357
By Maulana Wahiduddin Khan
ناگپور کا سفر بھارتیہ مزدور سنگھ کی دعوت پر ناگپور کا سفر ہوا ۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۴ء کو دہلی سے ناگپور گیا۔ اور ۱۸ اپریل کو دہلی واپسی ہوئی۔ ۱۵ اپریل کو ساڑھے دس بجے ائیر پورٹ کے لیے روانگی ہوئی مسٹر جگدیش جوشی میرے ساتھ تھے ۔ دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے قدیم تاریخ کے اوراق ذہن میں گھومنے لگے۔ معلوم تاریخ کے مطابق ، دہلی کو تومار راجپوتوں نے ۳۶ ۷ء میں آباد کیا اور اس کا نام ڈھلیکارکھا۔ بعد کو وہ دہلی بن گیا۔ یہ وہی سن ہے جب کہ زید بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب کوفہ میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف خروج کرنے کے لیے بیعت لے رہے تھے۔ ابتداً اہل کوفہ کی ایک تعداد نے بیعت کی اور آخر میں بیشتر لوگ بیعت توڑ کر الگ ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ بھی زید بن علی کے حامیوں میں سے تھے۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کو امام ابوحنیفہ کی اجتہادی غلطی قرار دیا جائے گا ، کیونکہ واضح طور پر وہ احادیث اور اجماعِ امت کے خلاف تھا۔ اور اگر اس کو شرعی اعتبار سے اجتہادی غلطی نہ مانا جائے تو سیاسی اعتبار سے اس کو اندازہ کی غلطی کہنا پڑے گا۔ کیونکہ اس وقت کے حالات میں یہ بالکل یقینی تھا کہ زید بن علی کا فوجی اقدام صرف امت کے نقصان میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ نتیجہ کے اعتبار سے وہ الٹا (counter productive) ثابت ہوگا۔ زید بن علی سیاسی امور کی مہارت نہیں رکھتے تھے۔ مگر وہ ایک باکمال عالم تھے۔ ان کے بارہ میں امام ابوحنیفہ کا قول ہے : ما رایت في زمانه افقه منه ولا اسررع جوابا ولا ابين قولا (الاعلام ۵۹/۳) ۱۱۹۲ء میں محمد غوری نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کیا تھا۔ محمد غوری کے فوجی سردار قطب الدین ایبک نے تیرھویں صدی میں قطب مینار بنایا جو اب تک قائم ہے۔ ۱۳۰۳ء میں علاؤ الدین خلجی کا دور شروع ہوا۔ غیاث الدین بلبن نے ۱۳۲۰ء میں تغلق آباد کا علاقہ بنایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader