Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

شولاپور میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عبدالواحد عبدالغفور شیخ اور زاہد علی خاں وغیرہ سے مسلسل رابطہ رہا۔ جناب زاہد علی خاں صاحب (پیدائش ۱۹۲۱) نے ایک موقع پر بہت بامعنی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ حکمت بھوک میں رکھی گئی ہے اور لوگ حکمت کو شکم سیرسی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ قدیم زمانہ میں شولاپور میں دیوگری یادو کا راج تھا۔ پھر وہ مسلم بہمنی سلطنت کا جزو بنا۔ اس کے بعد اس پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ ۱۹۴۷ سے وہ تقسیم کے بعد بننے والے ملک (بھارت) کا ایک حصہ ہے۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۳۰) حکومتی اقتدار اس دنیا میں کسی ایک گروہ کی میراث نہیں ہے۔ یہ خدا کی سنت ابتلاء کے تحت بدلتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی ایک گروہ کو سیاسی غلبہ دیتے ہیں اور کبھی دوسرے گروہ کو کسی گروہ کو سیاسی اقتدار ملے تب بھی وہ اس کے لئے امتحان ہے اور کسی گروہ سے سیاسی اقتدار چھن جائے تب بھی وہ اس کے لئے امتحان۔ آدمی کو چاہئے کہ دونوں حالتوں میں وہ اپنی ذمہ داریوں پر دھیان دے۔ نہ کہ اقتدار ملنے پر احساسِ برتری میں مبتلا ہو اور اقتدار چھننے تو احساسِ کمتری کا شکار ہو جائے۔ ۱۱ نومبر ۱۹۹۱ کی صبح کو میں شولاپور پہنچا۔ یہاں میرا قیام ڈاک بنگلہ میں تھا۔ مقامی ساتھیوں سے کچھ دیر ملاقات کرنے کے بعد ہوٹل کنارہ گیا ۔ وہاں پریس کانفرنس ہوئی۔ ایک درجن سے زیادہ اخبارات کے ایڈیٹر اور نامہ نگار جمع ہوگئے۔ ان میں سے ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ بقیہ مٹھی اخبارات سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ ابتدائی گفتگو کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک مراٹھی اخبار کے نمائندہ نے کہا کہ سب سے ضروری کام مذہبی نفرت کو ختم کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جس چیز کو مذہبی منافرت کہا جاتا ہے وہ حقیقۃً قومی منافرت کا دوسرا نام ہے۔ اس کو ہم ختم نہیں کرسکتے۔ البتہ حسن تدبیر سے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ اور وہ حسن تدبیر رواداری (tolerance) ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page