Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

گزر رہا ہے۔ جو رو روحانی کیفیت ان اجتماعات میں حاصل ہوئی اس کا بیان قلم سے ممکن نہیں۔ یہ مبالغہ نہیں حقیقت بیانی ہے"۔ حسب پروگرام ۱۰ نومبر کی شام کو، انڈے سیڈیشور ایکسپریس کے ذریعہ بمبئی سے سولاپور کے لئے روانگی ہوئی۔ بمبئی میں مسلسل پروگرام کی وجہ سے دماغ بالکل تھک گیا تھا۔ رات کو بہت اچھی نیند آگئی۔ صبح اٹھا تو ابھی دو گھنٹے کا سفر باقی تھا۔ یہ سفر ایک رفیق سفر کی وجہ سے بہت آسانی کے ساتھ طے ہوگیا۔ یہ ایک ریلوے افسر تھے جو پونہ سے رات کے وقت سوار ہوئے تھے اور وہ بھی سولاپور جارہے تھے: P.K.A. Narayan, Divisional Personnel Officer, Central Railway, Solapur. موصوف کے ساتھ دو اور ریلوے افسر تھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے وہ بار بار لطیفے بیان کرتے تھے۔ خود بھی ہنستے رہے اور دوسروں کو بھی ہنساتے رہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قسم کے لطیفے صرف لوگوں کو ہنسانے کے لئے بیان کرتے ہیں یا اپنا ٹنشن نکالنے کے لئے۔ انھوں نے کہا کہ اپنا ٹنشن نکالنے کے لئے۔ مزید گفتگو کے دوران انھوں نے کہا "مجھ کو قرآن کی ایک کاپی ہونا" میں نے سولاپور کے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ موصوف سے ملیں اور ان کو قرآن کا انگریزی یا ہندی ترجمہ پہنچا دیں۔ موصوف نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ آپ کوئی کاغذ لے کر اس کو فولڈ کریں۔ سات موڑ کے بعد اس کو مزید موڑنا سخت مشکل ہو جائے گا۔ کاغذ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہم نے پہلے ایک چھوٹا کاغذ دیلٹریڈ) سے لے کر موڑنا شروع کیا۔ وہ سات موڑ پر پہنچ کر رک گیا۔ پھر انگریزی اخبار کا بڑا کاغذ لیا۔ وہ بھی سات موڑ پر پہنچ کر رک گیا۔ دوسرے ریلوے افسرٹرگ نے کہا کہ ہر چیز کی ایک تکمیل حد (Saturating point) ہے۔ اس حد تک پہنچنے کے بعد انسان آگے نہیں جاسکتا۔ کاغذ کی فولڈنگ کی ایک حد ہے۔ اسی طرح ہر چیز کی ایک حد ہے۔ سولاپور کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کئی رائیں ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ یہ سولہ پور ہے۔ ابتدا آدمیں یہاں سولہ گاؤں تھے۔ ان سب کو ملا کر شہر بنایا گیا ۔ اس طرح اس کا نام سولاپور ہوگیا۔ دوسرا خیال ہے کہ یہ ابتدا اشعلہ پور تھا۔ اس کے بعد وہ شولاپور بنا، اور پھر سولاپور ہوگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page