Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

شملہ کا سفر اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام شملہ میں ۵ - ۶ جولائی ۱۹۹۴ کو ایک کانفرنس ہوئی، اس دو روزہ کانفرنس کا موضوع تھا: Redefining the good society اس کانفرنس کی دعوت پر شملہ کا سفر ہوا۔ یہ شملہ کے لئے میرا پہلا سفر تھا۔ ذیل میں اس سفر کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔ ۴ جولائی ۱۹۹۴ کو صبح ۵ بجے گھر سے روانگی ہوئی۔ ابھی سورج نہیں نکلا تھا۔ مگر فضا میں اجالا پھیل چکا تھا۔ جو بتیاں رات کے اندھیرے میں گم تھیں وہ صبح کی روشنی میں نمایاں ہوتی جا رہی تھیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے یہ آفاقی ماحول خاموش زبان میں کہہ رہا ہے کہ جھوٹ اور سچ کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ جھوٹے پروپیگنڈوں کا طوفان تھوڑی دیر کے لئے حقیقت کو چھپا سکتا ہے۔ مگر خود فطرت کے نظام کے تحت یقینی ہے کہ سچائی کا آفتاب طلوع ہو اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا اس طرح خاتمہ کر دے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ منتظمین نے سفر کا انتظام ہمالین کوئن ایکسپریس سے کیا تھا۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچاتو انسانوں کی ایک بھیڑ آتی اور جاتی نظر آئی۔ ریلوے کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر پر ٹرینوں کے بارہ میں مختلف اعلان کیا جا رہا تھا۔ ہمالین کوئن کے بارہ میں بتایا گیا کہ وہ اپنے سے پر ٹھیک ۷ بجے روانہ ہوگی۔ البتہ آج خلاف معمول اس کی روانگی کا انتظام پلیٹ فارم نمبر اس سے کیا گیا تھا۔ پلیٹ فارم پر پہنچے تو "اے سی فرسٹ" کی دوا سپیشل بوگی سامنے نظر آئی۔ یہ کانفرنس کے شرکاء کے لئے مخصوص کی گئی تھی۔ میری کیبن میں میرے علاوہ پی آر چاری (IAS) تھے ۔ اس طرح کے کیبن میں عام طور پر چار مسافر ہوتے ہیں۔ مگر اس میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ بوگی کے اندر کھانے وغیرہ کے تمام انتظامات ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس کے معیار پر کئے گئے تھے۔ راستہ میں ٹائمز آف انڈیا (۴ جولائی ۱۹۹۴) پڑھا۔ اس میں ایک رپورٹ بہتر زندگی (Living Better) کے زیر عنوان تھی۔ ڈاکٹر رانی راؤ نے لکھا تھا کہ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ چلانا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page