Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ آرایس ایس میں کوئی آپ کو شراب پینے والا نہیں ملے گا۔ اسموگنگ سے بھی آرایس ایس والے دور رہتے ہیں۔ یہ ایڈلیش سے نہیں بلکہ ماحول کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار میں بھٹنڈا میں تھا۔ آرایس ایس کا ایک نوجوان سگریٹ پی رہا تھا۔ میں اس سے قریب ہوا تو وہ مجھ کو دیکھ کر گھبرا گیا اور جلدی سے سگریٹ کو اپنی کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ میں نے کہا کہ اس طرح تو تمہارا کوٹ جل جائے گا۔ سگریٹ کو جیب سے نکالو۔ اس نے سگریٹ کو جیب سے نکال کر پھینک دیا۔ مگر وہ اتنا شرمندہ ہوا کہ اس کے بعد اس نے ہمیشہ کے لیے سگریٹ پینا چھوڑ دیا۔ شری اوم پرکاش اکھی سے میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے اپنا نام اردو میں لکھ کر دیا۔ وہ پاکستان (ٹوبہ ٹیک سنگھ) سے ۱۹۴۷ء میں ہندوستان آئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں ان کے پڑوس میں ایک مسلمان (شیخ صادق) رہتے تھے۔ شیخ صاحب کسی معاملہ میں پھنس گئے۔ پولیس نے ان کے خلاف کیس کر دیا۔ شری اکھی کے پتا جی نے گواہی دے کر شیخ صاحب کو بچایا۔ دونوں خاندان پڑوس میں تھے اور دونوں میں بہت اچھے تعلقات تھے۔ ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں کچھ دنگائی مسلمانوں نے اوم پرکاش اکھی کا مکان گھیر لیا۔ اس وقت شیخ صادق کا انتقال ہو چکا تھا۔ مگر ان کا بیٹا فورا نکل آیا اور مسلمانوں کے خلاف سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔ اس نے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر مسلمانوں کو بھگایا، آخر وقت تک وہ شری اکھی کے خاندان کی حفاظت کرتا رہا۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۴ء کی شام کو دہلی واپس آگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page