Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 385

By Maulana Wahiduddin Khan

سڑک کے ذریعہ تقریبا اڑھائی گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم "بادلوں کے اندر داخل ہوگئے۔ شملہ ۲۲۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس لئے یہاں موسم بالکل بدل جاتا ہے۔ یہاں آتے ہی ہم بادلوں کی اونچائی پر پہنچ جاتے ہیں۔ زمین پر جس طرح کبھی کہر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں ہر طرف بادل چھلے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ سے سڑک پر کسی قدر اندھیرا ہو گیا تھا۔ اس طرح بادلوں کے درمیان چلتے ہوئے ہم شملہ میں داخل ہو گئے ۔ شملہ میں میرا قیام, ہوٹل ہالی ڈے ہوم (کمرہ نمبر ۳۰۶) میں تھا۔ میدانی ہوٹلوں کی طرح اس سے ملحق لان اور گارڈن نہیں ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر جو ہوٹل بنائے جاتے ہیں وہ عام طور پر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ یہاں ایک سرکاری افسر سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ جب میں طالب علم تھا تو میرے بہت سے دوست تھے۔ پھر جب میں جونیئر افسر کی پوسٹ پر تھا تب بھی میرے دوستوں کی تعداد کافی تھی۔ مگر جب میں ترقی کر کے اعلی افسر بن گیا تو میرے دوست بہت کم ہو گئے ہیں۔ نے پوچھا کہ اس کی وجہ آپ کے خیال سے کیا ہے۔ انھوں نے فورا کہا کہ رقابت (rivalry) اسی کو مذھب کی اصطلاح میں حسد کہا جاتا ہے۔ حسد کا مرض اس دنیا میں بہت زیادہ عام ہے۔ بلکہ شاید کوئی بھی شخص اس جذبہ سے خالی نہیں۔ دوسرا آدمی جب تک آپ کو اپنے سے کم یا برابر دکھائی دے، آپ کے احساسات اس کے بارہ میں نارمل رہتے ہیں۔ مگر جب آپ کو محسوس ہو کہ دوسرا شخص عہدہ یا مال یا شہرت میں آپ سے آگے بڑھ گیا ہے تو فورا آپ کے اندر اس کے خلاف جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ اس کی کاٹ کرنے لگتے ہیں تاکہ اس کو غلط بتا کر اپنے اس جذبہ کو تسکین دیں کہ اب بھی آپ اس سے بلند ہیں۔ یہ نفسیاتی کمزوری کبھی شعوری طور پر آدمی کے اندر آتی ہے لیکن زیادہ تر آدمی کے دماغ میں غیر شعوری طور پر داخل ہو جاتی ہے۔ بطور خود آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی کے خلاف جلن اور حسد نہیں، حالاں کہ آپ مکمل طور پر حسد کی ذہنیت کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page