Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 386

By Maulana Wahiduddin Khan

شملہ ہماچل پردیش کا صدر مقام ہے۔ وہ ہمالیہ کے اوپر ۲۲۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ وہ ہندوستان کے چند انتہائی مشہور پہاڑی مقامات میں سے ایک ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ تقریباً ۳۰۰ کلومیٹر ہے۔ شملہ کو ۱۸۱۴-۱۶ میں انگریزوں نے بسایا تھا۔ اس وقت اس کا مقصد برطانی فوجی دستوں کو وہاں رکھنا تھا۔ بعد کو وہ گرمیوں کا موسم گزارنے کے لئے ایک مقبول پہاڑی مقام بن گیا۔ ۱۸۶۵ سے ۱۹۳۹ تک وہ گرمیوں کے لئے ملک کی راجدھانی رہا۔ جب تک میں نے شملہ کو نہیں دیکھا تھا، شملہ ایک افسانوی شہر معلوم ہوتا تھا۔ مگر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بھی دوسری بستیوں کی طرح ایک بستی ہے۔ کسی زمانہ میں یہاں فطرت کا حسن ہوگا۔ صحت بخش ہوا لوگوں کو ملتی ہوگی۔ سکون کا ماحول نظر آتا ہوگا۔ مگر آج وہ شملہ کہیں موجود نہیں۔ اس کے راستوں میں چلتے ہوئے میرا احساس یہ تھا کہ یہ گویا مکانوں کا ایک جنگل ہے جس میں کچھ انسان نما مخلوق ہر طرف بھیڑ لگائے ہوئے ہے۔ پچاس سال پہلے کا شملہ اب یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ جیسے ہی ہماری گاڑی شملہ کے اندر داخل ہوئی، اس سے میری دلچسپیاں ختم ہوگئیں۔ میں دن اور گھنٹہ گنے لگا کہ کب یہاں سے واپسی ہوگی۔ مجھ کو فطرت کا ماحول پسند ہے۔ مگر آج کے شملہ کے لئے فطرت کا حسن ایک قصہ ماضی بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت قائم تھی۔ اس نے ہندوستان کو بھی جنگ میں شریک کر دیا۔ مہاتما گاندھی کو اس سے اختلاف تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان ایک عدم تشدد کا ملک ہے۔ اس کو تشدد کے معاملہ میں فریق نہیں بننا چاہئے۔ وائسرائے لارڈ ڈلنتهگونے بذریعہ ٹیلی گرام مہاتما گاندھی کو شملہ آنے کی دعوت دی تاکہ اس مسئلہ پر گفت گو کی جاسکے۔ مہاتما گاندھی فوراً ٹرین سے سفر کر کے شملہ پہنچے۔ لوئی فشر کی رپورٹ کے مطابق، مہاتما گاندھی نے شملہ میں کہا کہ میں خدا سے پوچھتا ہوں کہ وہ اس قسم کی متشددانہ چیزوں کو ظہور میں آنے کی کیوں اجازت دیتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدم تشدد ناکام ہوگیا اور خدا بھی ناکام ہوگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page