Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اجتماع دمانی ہال میں کیا گیا۔ مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ۳۰ سال پہلے نیشنل انٹیگریشن کونسل قائم ہوئی ۔ مگر وہ مکمل طور پر فیل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سامنے کوئی واضح میتھڈالوجی نہیں۔ ایکتا کا رانہ انیکتا کو گوارا کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکتا کی بنیاد انٹیگریشن نہیں ہے بلکہ ٹالریشن ہے۔ ۱۲ نومبر کون نمازِ مغرب کے بعد مکہ مسجد میں تقریر ہوئی۔ اس کا عنوان تھا : "داعی کی ذمہ داریاں" قرآن اور سنت رسول کی روشنی میں اس کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ داعی کو مدعو کا خیر خواہ ہونا چاہئے، جس کو قرآن میں ناصح کہا گیا ہے۔ اور داعی کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو امین سمجھے۔ وہ مدعو پر احسان کرنے والا نہیں ہے بلکہ وہ مدعو کی امانت ادا کرنے والا ہے۔ اسی کے ساتھ داعی کے اندر صبر کی صفت ہونا چاہئے۔ تاکہ وہ مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کر کے اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔ ۱۳ نومبر کو عشاء کے بعد سوشل ہائی اسکول میں تقریر ہو گئی۔ اس کا عنوان تھا : اسلام میں تعلیم کی اہمیت ۔ یہ تقریر پر زیادہ مفصل تھی۔ دور اول کی مثالوں سے میں نے بتایا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر دوسری مصلحت کو نظر انداز کر کے اس کو اختیار کرنا چاہئے۔ ۱۳ نومبر کی صبح کو سولاپور سے پونہ کے لئے واپسی ہوئی۔ راستہ میں عزیز الحق صاحب کا ساتھ تھا۔ وہ ٹونک میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک درزی گھرانے سے تھا۔ ان کے بڑے بھائی پونہ میں ایک مسجد میں امام تھے ۔ عزیز الحق صاحب سلائی، کٹائی کا کام سیکھنے کے بعد روزگار کی تلاش میں ۱۹۶۱ میں پونہ آئے۔ یہاں دو مہینہ تک کام کی تلاش میں پھرتے رہے۔ مگر کام نہ ملا ۔ آخر کار انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے وطن ٹونک واپس چلے جائیں ۔ مگر بڑے بھائی نے روکا اور کہا کہ چند دن اور کوشش کر لو۔ ایک روز وہ پونہ کے بازار میں نکلے ۔ ایک جگہ ایک گجراتی ہندو کی ٹیلرنگ کی بڑی دکان تھی۔ وہ دکان میں داخل ہوتے "سیٹھ" سے کہا کہ ہم کو کام چاہئے۔ اس نے پوچھا، کیا تم سوٹ کی کٹنگ کا کام جانتے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ مگر اس وقت عزیز الحق صاحب کی عمر صرف ۱۸ سال تھی۔ سیٹھ کو یقین نہیں آیا کہ وہ اچھی کٹنگ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ان کو لینے میں اسے تامل ہوا۔ عزیز الحق صاحب نے سیٹھ سے کہا کہ آپ مجھ کو فی الحال عارضی طور پر رکھ لیں۔ اس کے بعد آپ جس سوٹ کی کٹنگ اور سلائی کا کام مجھے دیں اس کے کپڑے کی پوری قیمت ضمانت کے طور پر میری طرف سے رکھ لیں۔ اگر میرا تیار کیا ہوا سوٹ آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page