پونہ کا سفر
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
درگاہ بک کو پسند نہ آئے تو ضمانت کی رقم آپ کی اور سوٹ میرا۔ اگلے دن عزیز الحق صاحب پانچ سو روپے لے کر دوبارہ ٹیلنگ ہاؤس میں پہنچے اور سیٹھ کو روپیہ پیش کیا۔ مگر سیٹھ نے روپیہ نہیں لیا۔ اس نے کہا کہ پیسے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تم کام شروع کہ دو۔ عزیز الحق صاحب کا پر اعتماد انداز ان کی ظاہری کمی کی تلافی بن گیا۔ محمد عمر (۲۳ سال) ہمارے ڈرائیور تھے۔ وہ سولاپور کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ چار سال سے گاڑی چلا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کبھی ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ سڑک پر ایکسیڈنٹ نہ ہونے کی تدبیر کیا ہے۔ انھوں نے کہا؛ آگے کو دیکھتے رہنا اور گاڑی پر کنٹرول رکھنا۔ یہی وسیع تجربوں میں سفر حیات کی کامیابی کا راز ہے۔ ۱۳ نومبر اس سفر کا آخری دن تھا۔ مغرب کی نماز نیو ایرا کالونی (پونہ) کی مسجد میں پڑھی۔ یہ پونہ کی ایک کھلی ہوئی صاف ستھری کالونی ہے۔ یہاں ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ مغرب سے پہلے حاجی یونس دم صاحب کی رہائش گاہ پر کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ یہاں تذکیری انداز میں کچھ باتیں عرض کی گئیں۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ انڈیا میں مسلمانوں کی انتخابی سیاست کیا ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ تقریبا ہیں سال سے میں یہ کہتا رہا ہوں کہ اس معاملہ میں ملکی سطح پر مسلمانوں کی کوئی واحد سیاسی پالیسی ہونا ان کے لئے مفید نہیں ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مقامی حالات کے اعتبار سے اپنی پالیسی بنائیں اور مقامی اعتبار سے جو نمائندہ انھیں اپنے لئے موزوں اور مفید نظر آئے اس کو ووٹ دیں۔ اس کے بعد میں نے دو حدیثوں کی روشنی میں ایک تذکیری درس دیا۔ ایک حدیث: لكل أمة فتنة وفتنة أمتى المال ۔ دوسری حدیث : كل محدث بدعة وكل بدعة ضلالة۔ ۱۳ نومبر کی شام کو واپسی ہوئی ۔ پونہ سے دہلی کا سفر انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۵۰ ۴ کے ذریعہ طے ہوا۔ ایئر پورٹ پر میں جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ سامنے کی دیوار پر ٹیلی فون لگا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ میرے پاس کی سیٹ سے ایک صاحب اٹھے۔ وہ چلتے ہوئے ٹیلی فون تک پہنچے۔ اس کو ڈائل کر کے س کے اندر ایک روپیہ کا سکہ ڈالا اور پھر خاص انداز میں کھڑے ہو کر بات کرنے لگے۔ ان کی حرکت سے تحسانہ تمنتر کا انداز جھلک رہا تھا۔ ان کی ہیئت بظاہر یہ کہہ رہی تھی ۔ میری جیب میں پیسہ ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader