Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

داڑھی میں ان کو ایک "درویش" دکھائی دیا۔ ہندو قوم فقیروں اور درویشوں کے حلیے سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ غالباً اسی طرح کے احساسات کے تحت مذکورہ خاتون نے میرے بارہ میں دریافت کیا۔ موجودہ وائسر یگل لاج جون ۱۸۸۸ میں بن کر تیار ہوا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے وہ وائسرائے کی رہائش گاہ تھا۔ آزادی کے بعد اس کا نام راشٹر پتی نواس رکھا گیا اور وہ گرمیوں کے موسم میں ہندوستانی صدر کی رہائش گاہ قرار پایا۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اکتوبر ۱۹۶۵ میں اس کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کے حوالے کر دیا، اب اسی ادارہ کے دفاتر اس عمارت میں قائم ہیں۔ تاہم اب یہ عمارت جگہ جگہ سے خستہ ہو گئی ہے۔ اس کی دیکھ ریکھ (maintenance) کے لئے مرکزی حکومت سالانہ ۲۰ لاکھ روپیہ دیتی ہے۔ مگر وہ ناکافی ہے۔ اور اس کے منتظم مریل میری نے حکومت سے دو کروڑ ۲۰ لاکھ روپیہ کا مطالبہ کیا ہے۔ The viceregal lodge in Shimla which now houses the Indian Institute of Advanced Studies راشٹر پتی نواس (قدیم وائسر یگل لاج) جہاں یہ کانفرنس ہوئی، وہ بہت بڑا ہے اور عالی شان محل کی مانند ہے۔ اس میں تین سو سے زیادہ کمرے ہیں اور کئی بڑے بڑے ہال ہیں۔ وغیرہ، وغیرہ۔ مسٹر نٹور سنگھ نے اپنی تقریر میں اس بلڈنگ کی تاریخی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقسیم کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page