بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 393
By Maulana Wahiduddin Khan
منصوبہ اسی عمارت کے ایک کمرہ میں مکمل کیا گیا تھا جو ہمارے اس ہال سے زیادہ دور نہیں ہے: The partition plan (1947) was finalised here in a room not far from this one. تاہم یہ سو سالہ عمارت اب کافی حد تک قابل مرمت ہو چکی ہے۔ اور عمارت کے ذمہ داروں کے پاس اتنا فنڈ نہیں ہے کہ وہ اس کے شایان شان اس کی مرمت کر سکیں۔ اس کا نفرنس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ گڈ سوسائٹی کیسے بنائی جائے۔ ایک صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گڈ سوسائٹی کے بارہ میں فلسفی کا پرسیپشن ایک ہے، اور کامن مین کا پرسیپشن گڈ سوسائٹی کے بارہ میں دوسرا ہے۔ کیا یہاں اچھے سماج کا کوئی عالمی نظریہ پایا جاتا ہے : Is there a universal definition of a good society. اس طرح کے معاملات میں نظریاتی وحدت صرف مقدس کتاب کے ذریعہ لائی جا سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے مباحثہ کے ذریعہ ایسے معاملات میں نظریاتی وحدت حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر من موہن سنگھ نے حکومت کی جدید اقتصادی پالیسی (لبرالائیزیشن) پر تقریر کی۔ تقریر کے بعد لوگوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی خاص طور پر خواتین نے۔ کیونکہ با روزگار خواتین زیادہ تر پبلک سیکٹر میں ہیں اور پبلک سیکٹر کے ختم ہونے سے عورتوں کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ (وزیر مالیات) نے نہایت جرات کے ساتھ سوالات کا سامنا کیا۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ من موہن سنگھ کی ایک صفت میں نے یہ دیکھی کہ انھوں نے کسی سوال کا جواب ٹالنے والے (evasive) انداز میں نہیں دیا۔ انھوں نے کہا: جو آدمی ڈبل ٹاک نہیں کرتا وہ کبھی ٹالنے والا جواب (evasive reply) نہیں دے گا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم باہر پیسہ لانے کے لئے گئے تو ایک افسر نے ہم کو جواب دیا کہ ہنر ایکسلینسی، آپ کے ملک سے جتنا پیسہ باہر جا رہا ہے اس کو ملک میں روک لیجئے ۔ پھر باہر سے آپ کو پیسہ مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ میں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ سے کہا کہ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ پہلے شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader