بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 394
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں جو میرے خواب کو پورا کر رہے ہیں۔ ۱۹۵۰ء میں جب جواہر لال نہرو نے سوشلسٹ پیٹرن آف سوسائٹی کا نعرہ دیا اس وقت سے میں اس کا مخالف رہا ہوں۔ میرے نزدیک ہندوستان کے تمام اقتصادی مسائل کا سبب یہی ہے۔ آپ بہادرانہ طور پر اس کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ جو لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ سب سطحی سوچ کا شکار ہیں۔ آپ اس مہم کو جاری رکھئے! مستقبل میں لوگوں کی سمجھ میں آ جائے گا کہ سوشلسٹ پالیسی کے مقابلہ میں لبرل پالیسی ہی زیادہ درست تھی۔ ہماچل پردیش کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدرا سنگھ نے اپنی تقریر میں ایک ہندو دعا کا ذکر کیا۔ اس کا انگریزی ترجمہ انھوں نے اس طرح سنایا : Lead us from untruth to truth Lead us from darkness to light. Lead us from death to immortality. ہم کو غیر سچائی سے نکال کر سچائی کا راستہ دکھا۔ ہم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آ۔ ہم کو موت سے نکال کر ابدیت میں لے آ۔ اس دعا کا آخری حصہ کس قدر مبہم ہے۔ موت خاتمہ حیات نہیں، وہ بجائے خود ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ موت اگلے مرحلہ حیات میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ پولیٹیکل سسٹم اور پولیٹیکل کلچر کے درمیان بہت فرق ہے۔ ہمارے یہاں کہنے کے لئے ڈیموکریسی ہے۔ مگر ڈیموکریسی کی اسپرٹ ہمارے یہاں موجود نہیں۔ راستہ روکو، ریل روکو، یہ ڈیموکریسی ہو سکتی ہے۔ مگر یہ ڈیموکریٹک کلچر نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ ڈیموکریسی کے ساتھ ڈیموکریسی کی روایات بھی ضروری ہیں۔ ہمارے یہاں ڈیموکریسی تو آ گئی۔ لیکن ڈیموکریسی کی روایات قائم نہیں ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ڈیموکریسی عملاً انار کی بن کر رہ گئی ہے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ مغربی طرزِ فکر آج بھی ہمارے سماج پر غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے: Western framework of thinking is dominating our society

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader