Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 396

By Maulana Wahiduddin Khan

آجاۓ تو سماجی برائیاں مٹ جائیں گی تو اس نظریہ کی صحت کو اس سے جانچنا چاہیے کہ خوف خدا آنے کے بعد سماجی برائی ہٹی یا نہیں۔ مگر اشتراکیت کی بنیاد فکری تبدیلی پر نہیں ہے بلکہ پیداوار اور تقسیم کے خارجی نظام کی تبدیلی میں ہے۔ اس لئے اگر خارجی نظام بدلنے کے باوجود سماجی برائیاں نہ مٹیں تو اس سے اشتراکیت کا نظریہ رد ہو جائے گا۔ اول الذکر کو جانچنے کا معیار فکری تبدیلی ہے اور ثانی الذکر کو جانچنے کا معیار خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی۔ چونکہ سوویت یونین میں خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی کے باوجود سماجی برائیاں ختم نہیں ہوئیں ، اس لئے سوویت یونین کی ناکامی خود اشتراکیت کی ناکامی کے ہم معنی قرار پائے گی۔ ایک صاحب نے مہاتما گاندھی کا یہ قول دہرایا کہ دنیا میں آدمی کی ضرورت کے لئے بہت کچھ ہے۔ مگر آدمی کی حرص کے لئے بہت زیادہ نہیں : There was enough in the world for every ones’s need but not for everyone’s greed. یہ بات بالکل درست ہے۔ موجودہ دنیا آزمایش کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں اتنا ہی سامان رکھا گیا ہے جو آزمایش کے لئے ضروری ہو۔ انسان کی خواہشات کی لامحدود تکمیل کے لئے آخرت کی دنیا ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنی آزمایش میں پورے اتریں گے وہ آخرت میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لامحدود سامان پالیں گے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اب دنیا بہت بدل چکی ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں خوش قسمتی سے امپیریلزم اور نسل پرستی انسانیت کے ایجنڈے پر نہیں ہیں۔ اب ایک نئے ورلڈ کی باتیں ہر طرف کی جا رہی ہیں : Colonialism, imperialism and racialism are fortunately no longer on the agenda of humankind. There is much talk of a new world order. یہ بات درست ہے کہ مختلف تجربات کے بعد اب انسانی ذہن کسی نئی چیز کی تلاش میں ہے۔ یہ نئی چیز مذہب کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی۔ سیکولر نظریات سب کے سب ناکام ہوچکے ہیں۔ اس نے دین حق کے لئے دوبارہ نئے مواقع دے دئے ہیں۔ مگر دین حق کو نئی دنیا میں عظمت کا مقام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page