بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 397
By Maulana Wahiduddin Khan
دینا، لگن کلچر کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف دلیل کے زور پر ہی ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دین حق کو جدید انسان کے فکری مستوی پر پیش کیا جائے۔ اگر ایسا ہو سکے تو دین حق کو دوبارہ تاریخ میں واپسی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ دسمبر ۱۹۹۰ میں جے پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کا ایک اجلاس ہوا۔ وہاں کچھ ہندوؤں نے یہ نعرہ لگایا : جو ہند و بہت میں بات کرے گا، وہی دیش پر راج کرے گا۔ کچھ اور ہندوؤں کو یہ نعرہ پسند نہیں آیا۔ انھوں نے اس کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ حتی کہ اگلے دن اجلاس ہوا تو انھوں نے نعرہ لگایا : جو راشٹر ہت میں بات کرے گا، وہی دیش پر راج کرے گا۔ (ہندوستان ٹائمس، سنڈے ایڈیشن، صفحہ ۲) یہ واقعہ علامتی طور پر اس صورتحال کو بتا رہا ہے جو اس وقت ہند وقوم کے اندر موجود ہے۔ ان میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کی نمائندگی اول الذکر نعرہ میں ہو رہی ہے، اور دوسرے وہ جن کی نمائندگی ثانی الذکر نعرہ میں پائی جاتی ہے۔ اس معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اسی کو قرآن میں قانون دفع کہا گیا ہے (البقرہ ۲۵۱ ، ایج ۴۰) یہ فطرت کا نظام ہے کہ وہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ دفع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مفسد یا انتہا پسند کبھی زیادہ تک یا بہت دور تک اپنا کام نہیں کر پا تا۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ ایسا اٹھتا ہے تو فطرت کی طاقتیں اس کا مقابلہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد کے سیمناروں کے بارہ میں میری رائے زیادہ اچھی نہیں۔ یہاں بھی میں نے اپنی اس رائے کا اظہار کیا۔ میرا تجربہ ہے کہ یہ لوگ زیادہ تر خوبصورت الفاظ کے فرضی قلعے بناتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں آخری حد تک پریکٹیکل ہوتے ہیں۔ مگر سیمنار میں آتے ہی وہ آئیڈیلٹ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے ان کی باتیں خوبصورت الفاظ بکھیرنے کے سوا کوئی اور نتیجہ ظاہر نہیں کر پاتے۔ خوبصورت الفاظ سے میری مراد کیا ہے ، اس کی ایک مثال لیجئے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں انڈیا کی اقتصادیات پر بولتے ہوئے کہا: We have to see that the economy becomes sound and we are able to integrate with the global economy.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader