Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 399

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ مگر ہندو ازم میں اس قسم کا ریجڈ نظریہ نہیں۔ ہندو ازم میں مانا گیا ہے کہ حقیقت کے مختلف روپ ہو سکتے ہیں ۔ سبھی مذاہب اپنی اپنی جگہ پر سچے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ بات کہنے میں تو اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر آپ گہرائی کے ساتھ سوچیں تو آپ کو اس میں کئی خلا نظر آئے گا ۔ مثلاً اس تصور میں اخلاقی ویلوز سب کی سب اضافی (relative) قرار پاتی ہیں ۔ جب دو مختلف اخلاقی رویہ کو بیک وقت درست سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد ایک اخلاقی معیار اور دوسرے اخلاقی معیار میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں پائے جانے والے موجودہ غیر معمولی کرپشن کی ۔ ۶ جولائی کو میری صدارت میں جو اجلاس ہوا ۔ اس میں لیڈ اسپیکر ڈاکٹر پی آر چاری دائی اے ایس) تھے ۔ پہلے میں نے مختصر طور پر تعارفی تقریر کی۔ اس کے بعد مسٹر چاری نے اظہار خیال کیا۔ اس کے بعد جن افراد نے بحث میں حصہ لیا ان کے نام یہ ہیں ـــــ مسٹر رانا ، ڈاکٹر جھوٹانی ، ڈاکٹر برار، پروفیسر پی این دهر ، پروفیسر روند کماره، پروفیسر رندھاوا ، پروفیسر پیشپال ، پروفیسر راؤ ، مسٹر نلنی سنگھ ، ڈاکٹر کرن بیدی ، مسٹر ٹور سنگھ ، مسٹر سریندر ناتھ ۔ آخر میں میں نے مفصل طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ربتا یا کہ پر امن سماج بنانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ مسٹر پی ایس چاری (آئی اے ایس ) نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پلاسی کی جنگ (۱۷۵۷) کے بعد جب بنگال اور اس کے آس پاس کے علاقہ پر انگریزوں کا سیاسی قبضہ ہو گیا تو ہیسٹنگز (Warren Hastings) کو اس کا پہلا گورنر جنرل بنایا گیا۔ ۱۷۷۸ء تک وہ یہاں کا گورنر جنرل رہا۔ اس وقت یہاں کوئی انتظامی ڈھانچہ نہیں تھا۔ دیہاتوں میں زمیندار بے زمین لوگوں پر بہت ظلم کرتے تھے ۔ ہیسٹنگز نے بنگال کو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا اور ہر یونٹ کے لئے ایک انگریز کلکٹر بھیجا۔ ان انگریزوں کو اس نے کوئی تفصیلی قانون یا قاعدے نہیں بتائے۔ ان کو صرف ایک بنیادی ہدایت دیدی ـــــ تم ظالموں اور کسانوں کے درمیان کھڑے ہو جاؤ : Thou shalt stand between the hand of oppression and the peasantry. یہی سماجی انتظام کا خلاصہ ہے۔ سماجی حالات کو درست کرنے کے لئے ایک ہی کام کرنا ہے ۔ مظلوموں کے خلاف ظالموں کا ہاتھ پکڑ لینا ۔ اگر یہ چیز حاصل ہو جائے تو بقیہ حالات خود فطرت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page