بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 400
By Maulana Wahiduddin Khan
رز در پر درست ہو جائیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانہ میں مکہ میں جو حلف الفضول ہوا ، اس کی روح بھی یہی تھی ۔ میں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا ، اس کا خلاصہ پیشگی طور پر تین صفحہ میں لکھ لیا تھا۔ اس کی کاپیاں منتظمین کی طرف سے کانفرنس میں تقسیم کی گئیں ۔ یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی رسالہ میں شائع کر دیا جائے گا ۔ لوگوں کا تاثر بہت اچھا تھا ۔ مسز انجنا سانیال نے کہا : آپ کاپیپر میں نے پڑھا۔ اور اس کی کاپی بھی اپنے پاس رکھ لی۔ وہ بہت سہل ہے اور فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے ۔ اسی طرح کا تاثر جسٹس پاتھک نے بھی بیان کیا۔ ڈاکٹر کرن بیدی بھی اس کانفرنس میں شریک تھیں ۔ وہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی ) ہیں ۔ اور اس وقت دہلی جیل (پریزن ) کی انچارج ہیں۔ کانفرنس کے بعد ایک ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ میں آپ کے مضامین ہندی اور انگریزی اخباروں میں پڑھتی رہتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جیل میں ہم آپ کے لکچر کا انتظام کریں۔ آپ وہاں آئیں اور ہمارے قیدیوں کے سامنے اسلام کی روشنی میں اخلاق اور انسانیت والی باتیں بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ میری ماتحتی میں اس وقت نو ہزار قیدی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ جیل کا ہر آدمی دھرم میں بشواس رکھتا ہے، اور آگے پہلے وہ ایسا نہیں تھا تو اب وہ ایسا ہو گیا ہے ۔ جب میں پولیس افسر بنی تو میرے اندر روحانیت (spirituality) نہیں تھی۔ مگر جیل والوں کو دیکھ کر مجھے بھی دھرم اور روحانیت کے بارہ میں پڑھنا پڑا تاکہ میں ان کو بتا سکوں۔ انھوں نے ہر روز ایک گھنٹہ کے لئے جیل میں سرو دھرم سبھا شروع کر دیا ۔ کیوں کہ جیل میں ہر مذہب کے لوگ موجود تھے ۔ ان تجربات نے خود ان کے اندر بھی روحانیت پیدا کر دی۔ شملہ سے واپسی کے بعد ۱۰ جولائی کو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر کرن بیدی کو مشہور میگ سے ایوارڈ (Magsaysay Award) دیا گیا ہے جو ۵۰ ہزار ڈالر پر مشتمل ہے ۔ یہ ایک انٹرنیشنل ایوارڈ ہے ۔ جب ان کو اس ایوارڈ کی خبر ملی تو وہ ناچ اٹھیں۔ انھوں نے کہا : I am thrilled. It’s God’s grace. ڈاکٹر کرن بیدی ایک بہادر اور دیانت دار خاتون ہیں۔ اخبار پڑھنے والے جانتے ہیں کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader