بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 401
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے دنوں انھیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر انٹرنیشنل سطح پر اعتراف کے بعد اب ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ مشہور مثل ان کے اور صادق آئی کہ آدمی پہلے باہر پہچانا جاتا ہے ، اس کے بعد اندر کے لوگ اس کو پہچانتے ہیں۔ چنانچہ پہلی بار ٹائمس آف انڈیا (۲۰ جولائی ۱۹۹۲) میں ان کے بارہ میں مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے : Kiran Bedi as the ideal police officer. مسٹر لٹنی سنگھ ٹی وی کی دنیا میں کافی مشہور ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں نہایت کامیاب سمجھی جاتی ہیں۔ ایک عام آدمی ان کو کامیاب خاتون سمجھے گا۔ مگر ایک ملاقات میں انھوں نے نہایت افسردگی کے ساتھ اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ زندگی صرف پیسہ اور شہرت کا نام تو نہیں۔ میں جب زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتی ہوں تو مجھے یہ ساری سرگرمیاں بےکار (futile) نظر آنے لگتی ہیں۔ مجھ کو جینے کے لئے بظاہر سب کچھ ملا ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جیو تو کس کے لئے جیو۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے ساتھ جب تک آخرت کو نہ جوڑا جائے، زندگی کی معنویت سمجھ میں نہیں آتی۔ کچھ سطحی قسم کے لوگ اس کے بغیر خوش رہ سکتے ہیں مگر ایک سنجیدہ آدمی کبھی اس پر مطمئن نہیں ہو سکتا کہ زندگی بس اتنی ہے کہ ـــ پیدا ہو، کھا پیو اور مر جاؤ۔ ڈاکٹر محمود صاحب اور اقبال احمد صاحب عرصہ سے شملہ میں رہتے ہیں۔ ۴ جولائی کی رات کو ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ شملہ میں تقریباً تین ہزار مسلمان ہیں جن میں زیادہ تر لبر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں سات مسجدیں اور ایک مدرسہ بھی قائم ہے۔ ۱۹۴۷ تک شملہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یہاں کی زمینیں زیادہ تر مسلمانوں کے پاس تھیں۔ مگر تقسیم کے بعد جب پنجاب میں مار کاٹ ہونے لگی تو یہاں کے مسلمان گھبرا کر یہاں سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد پھر یہاں مسلمان دوبارہ جم نہ سکے۔ تقسیم کے نتیجہ میں جو بر بادیاں پیدا ہوئیں ان کی گنتی کرنا مشکل ہے۔ تاہم سب سے بڑی برائی جو تقسیم نے پیدا کی ہے وہ نفرت ہے۔ تقسیم کی تحریک بظاہر اسلام کے نام پر اٹھائی گئی۔ مگر حقیقتہ یہ نفرت کا ایک ہنگامہ تھا۔ اولاً اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل نفرت پیدا کی۔ اور اس کے بعد خود مسلمانوں اور مسلمانوں میں گہری نفرتیں جگادیں۔ چنانچہ پاکستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader