Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 403

By Maulana Wahiduddin Khan

شملہ کا نفرنس کی میزبانی ہماچل پردیش سرکار نے اپنے ذمہ لی تھی۔ چنانچہ ہماچل پردیش کے گورنر اور چیف منسٹر اور دوسرے سرکاری افراد برابر اس کانفرنس میں ذاتی طور پر شریک رہے۔ ہماچل پردیش ( نیز پنجاب اور چندی گڑھ کے گورنر مسٹر سریندر ناتھ کی کری میری کری سے مل ہوئی تھی۔ چنانچہ ان سے کافی باتیں ہوئیں۔ انھوں نے بتایا کہ گورنری کی میعاد پوری ہونے کے بعد وہ مذہبیات پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام پر کئی کتابوں کے نام مجھ سے پوچھ کر نوٹ کئے۔ ۷ جولائی کی شام کو انھوں نے گورنر ہاؤس میں نہایت اہتمام کے ساتھ تمام شرکاء کانفرنس کو ڈنر دیا۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے تمام افراد خاندان کا مجھ سے تعارف کرایا۔ سب کے سب بہت خوش نظر آتے تھے۔ عجیب بات ہے کہ جب میں کانفرنس سے فارغ ہو کر دہلی واپس آیا تو یہاں خبر ملی کہ ۹ جولائی کی صبح کو ان کے تمام افراد خاندان (گورنر صاحب کو لے کر دس افراد) ہوائی جہاز کے حادثہ میں ہلاک ہو گئے۔ موصوف اپنی بیوی ، لڑکی اور داماد ، ان کے دو لڑکے ، ایک بیٹا اور اس کی بیوی، اور ان کی دوجلاکی کے ساتھ شملہ سے چندی گڑھ جارہے تھے۔ راستہ میں ان کا چھوٹا جہاز پہاڑی سے ٹکرا گیا اور جہاز کے عملہ سمیت تمام کے تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ کی خبر پاکستانی اخبار (نوائے وقت ۱۰ جولائی ۱۹۹۳) میں اس سرخی کے ساتھ چھپی : بھارتی پنجاب کا ہندو گورنر خاندان سمیت طیارے کے حادثہ میں مارا گیا۔ پہاڑوں کے اوپر اس وقت گہرا کہرا تھا۔ غالباً دھند (Poor Visibility) کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ جس سرکاری جہاز پر یہ لوگ سفر کر رہے تھے اس کا نام سپر کنگ (super king) تھا۔ مگر فطرت کے مقابلہ میں نہ کوئی سپر ہے اور نہ کوئی کنگ۔ وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے سامنے کانگریس پارٹی کے ایک شخص نے کہا کہ نرسمہا راؤ کو ابھی دس سال اور پرائم منسٹر کے عہدہ پر رہنا چاہئے۔ نرسمہا راؤ نے فوراً جواب دیا کہ یہ بہت بڑی بھول ہے کسی کے لئے دس سال یا بیس سال کی اصطلاح میں سوچا جائے ۔ دیکھئے پنجاب کے گورنر سریندر ناتھ کے ساتھ کیا ہوا : It is a big mistake to think in terms of 10 or 20 years. See what happened to the Punjab governor Surrendra Nath.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page