بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 404
By Maulana Wahiduddin Khan
شریمتی گایتری رے (Gayatri Ray) اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ میں اسسٹنٹ سکریٹری ہیں ۔ وہ اسی کانفرنس کی آرگنائزر تھیں ۔ جب میں شملہ پہنچا تو وہ بار بار مجھ سے کہتی تھیں کہ یہاں جو لوگ جمع ہوئے ہیں وہ سب آپ کو خصوصی طور پر سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے آپ خوب کھل کر اپنے خیالات رکھیں۔ 4 جولائی کی شام کو مجھے اس کا موقع ملا۔ میں نے تفصیل کے ساتھ موضوع پر روشنی ڈالی۔ موضوع تھا : پر امن دنیا کی طرف (Towards a non-violent world) شریمتی گایتری رے نے اپنا ایک عجیب قصہ سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۱ میں جب بنگلہ دیش کی جنگ ہوئی ، اس وقت ان کے شوہر ہندوستانی سفیر کی حیثیت سے ڈھاکہ میں مقیم تھے ۔ پاکستانی فوج نے ان کو ہاؤس ارسٹ (خانہ قید) کر دیا۔ اتفاق سے انھیں دنوں وہ حاملہ تھیں ۔ ڈاکٹری حساب کے مطابق، ۱۸ ستمبر کو ان کے یہاں ڈلیوری ہونے والی تھی۔ وہ بہت پریشان ہوئیں۔ انھوں نے پاکستانی حکام تک اپنی فریاد پہنچائی۔ مگر انھوں نے گھر سے نکل کر اسپتال جانے کی اجازت نہیں دی۔ البتہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کو ان کی مدد کے لئے گھر پر بھیجا۔ لیکن انھوں نے پاکستانی ڈاکٹر کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کمرہ میں بیٹھ کر بھگوان سے خوب پرارتھنا کی کہ وہ ان کی ڈلیوری کو روک دے۔ ان کی دعا قبول ہوئی ۔ اور ڈلیوری کی تاریخ ایک مہینہ کے لئے مؤخر ہوگئی۔ چنانچہ ان کی دہلی واپسی کے بعد ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۱ کو ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ میڈیکل تحقیق کے مطابق ، بچہ کی پیدائش ۲۸۰ دن میں ہو جانا ضروری ہے۔ مگر دعا نے اس کو ایک مہینہ تک کے لئے روک دیا۔ شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ : لا يرد القدر إلا الدعاء (احد) یہاں جو وی آئی پی تھے وہ سب مجھ کو پہلے سے جانتے تھے۔ وہ اخباروں میں میرے مضامین پڑھے ہوئے تھے۔ ہر ایک بڑے شوق سے ملا۔ ہماچل پر دیش کے گورنر مسٹر سریندر ناتھ نے کہا کہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد میں مذہب پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ تمام مذ ہہوں کی تعلیمات بنیادی طور پر ایک ہیں۔ میں اس کے بارہ میں مزید تفصیلی اسٹڈی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے اس موضوع کی کتابیں بتائیے ۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر مسلمانوں نے بہت کم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader