Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 406

By Maulana Wahiduddin Khan

نارمل ہونے کے بعد دوبارہ مسلمان یہاں آنا شروع ہوئے ۔ اب یہ مسجد آباد ہے اور تعمیری اعتبار سے مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے اطراف میں مسلمانوں کے پانچ گھر ہیں۔ مسجد میں ایک مدرسہ اور مختلف شعبے قائم ہیں۔ وہ ہماچل پردیش کے لئے اسلامی مرکز کا کام کر رہی ہے۔ اس دنیا میں وقتی نقصان ہر ایک کو پیش آتا ہے ۔ مگر یہ قدرت کا قانون ہے کہ وقتی نقصان ہمیشہ وقتی نقصان رہے، وہ کسی کے لئے مستقل بر بادی نہ بنے۔ بابو گنج کی مسجد کے پاس ایک صاحب پنڈت دیارام رہتے ہیں۔ یہاں کے مندر کا انتظام بھی وہی کرتے ہیں۔ پچھلے رمضان میں ایسا ہوا کہ رات کو جس وقت مسجد میں تراویح ہوتی، عین اسی وقت مندر میں لاؤڈ اسپیکر پر بھجن ہوتا ۔ اس سے نمازیوں کو الجھن پیش آرہی تھی ۔ آخر ایک روز ایک مسلمان نے پنڈت جی سے اس کا ذکر کیا۔ پنڈت جی نے فوراً کہا کہ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ انھوں نے اسی دن ہدایت کر دی کہ تراویح کے وقت مندر کا لاؤڈ اسپیکر بند کر دیا جائے اور دوبارہ اس وقت کھولا جائے جب کہ تراویح ختم ہو چکی ہو۔ پنڈت دیارام مجھ سے ملنے کے لئے مسجد میں آئے ۔ ان کی عمر ۷۲ سال ہو چکی ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے ۱۹۴۷ء سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ء کے بعد کا زمانہ بھی دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے دونوں میں کیا فرق پایا۔ پنڈت جی نے کہا کہ بہت زیادہ فرق ہے ۔ اس وقت انسان کی قدر تھی۔ لوگ ایماندار تھے۔ ہم سکون کے ساتھ رہتے تھے۔ لاٹ صاحب (انگریز وائسرائے ) سڑک پر صرف ایک گاڑی میں چلتے تھے۔ کل دہلی کے منسٹر صاحب آئے ہیں۔ جب وہ ایرپورٹ سے یہاں پہنچے تو میں نے ان کے موٹروں کے قافلہ کو گنا تو کل ۲۲ گاڑیاں ان کے ساتھ چل رہی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اب جو اختلاف اور لڑائی جھگڑا ہے وہ سب پالی ٹکس کی وجہ سے ہے۔ " ووٹ کے چکر میں سارے اختلافات پیدا ہوگئے"۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کے سیسل ہوٹل (Cecil Hotel) کالان اس وقت بہت اچھا ہوا کرتا تھا۔ اس کے گیٹ کے سامنے یہ بورڈ لگا رہتا تھا کہ ہندستانی اور کتے اندر داخل نہ ہوں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page