Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 407

By Maulana Wahiduddin Khan

Indians and dogs are not allowed. اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ کتے کی عادت ہے کہ وہ گھاس کو اپنے پنجہ سے کریدتا ہے۔ اسی طرح بوٹ پہن کر جانے سے لان کی گھاس خراب ہوتی تھی۔ چنانچہ وہ دونوں کو اندر جانے سے روکتے تھے۔ انگریز جو یہاں آتے تھے، وہ بوٹ پہن کر اس کے اندر نہیں جاتے تھے۔ ان کے پاس فوم جیسا چپل ہوتا تھا۔ وہ لان میں جاتے ہوئے یہی چپل پہن لیتے تھے۔ اس منظر کو پنڈت جی نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ڈاکٹر جگدیش شرما شملہ ریڈیو کے پروگرام ایگزیکیوٹو ہیں۔ وہ ریڈیو کے لئے انٹرویو چاہتے تھے۔ چنانچہ طے ہو کہ ۷ جولائی کو صبح ساڑھے آٹھ بجے وہ میرے ہوٹل پر آئیں گے۔ مگر مجھ کو بالو گنج کی مسجد میں دیر ہو گئی۔ ہوٹل کے ریسپشن میں ٹیلی فون کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ٹھیک وقت پر ہوٹل پہنچ چکے ہیں۔ جب ان کو بتایا گیا کہ اس وقت میں بالو گنج کی مسجد میں ہوں تو انھوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ میں وہیں آ جاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ریکار ڈنگ کے سامان کے ساتھ مسجد میں آگئے۔ یہاں انھوں نے تفصیلی انٹرویو لیا (3471-77301 Tel.) میں نے خاص طور پر اس پہلو پر زور دیا کہ سماجی اور قومی زندگی میں امن لانے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ تحمل اور رواداری کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ تحمل اور رواداری فطرت کا ایک قانون ہے۔ اس کے بغیر ایک پر امن گھر بھی نہیں بنایا جا سکتا، کجا کہ اس کے بغیر کوئی پر امن سماج بنایا جا سکے۔ انگریزی روز نامہ ٹریبیون (The Tribune) کے پریس رپورٹر مسٹر سرلیش گری نے ۶ جولائی ۱۹۹۳ کی شام کو انٹرویو لیا (01886-32088 .Tel) ایک سوال یہ تھا کہ شملہ کانفرنس کے بارہ میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس بجائے خود منزل نہیں ہوتی۔ یہ تو راستہ طے کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مفید کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں ٹاپ کے لوگ جمع ہوئے۔ انھوں نے اپنے علم اور تجربہ سے ایک دوسرے کو بہت کچھ دیا۔ خود میں نے یہاں کئی نئی باتیں سیکھیں۔ مجھے امید ہے کہ دو دن کا یہ اجتماع ملک کی تعمیر و ترقی کی طرف ایک مثبت قدم ثابت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page