پونہ کا سفر
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ٹیلی فون کر سکتا ہوں۔ موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ اٹھ گئی ہے وہ شکر ہے۔ صنعتی الفجار کے بعد چاہنے تھا کہ انسان ہمیشہ سے زیادہ شکر کرنے والا بن جائے، مگر اس کے بعد وہ ہمیشہ سے زیادہ ناشکری کرنے والا بن گیا۔ دوران پرواز کھانے کی سروس شروع ہوئی تو ایئر ہوسٹس نے پوچھا۔ ویجیٹیریان یا نان ویجیٹیریان۔ میری زبان سے نکل گیا نان ویجیٹیریان۔ جب کھانا سامنے آیا اس وقت مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ سالن کی پلیٹ فوراً ہٹادی اور روٹی اور کھیر کھانے پر اکتفا کیا۔ اختیار کے دائرہ میں بھی انسان کتنا زیادہ بے اختیار ہے۔ ”تھوڑی دیر میں ہم دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترنے والے ہیں۔“ اناونسر کی آواز کان میں آئی۔ میں نے سوچا کہ اب میں پونہ سے دور اور دہلی سے قریب ہوں۔ پھر اس حقیقت کی طرف دھیان گیا کہ اب میری عمر ۶۷ سال ہو چکی ہے۔ خیال آیا کہ میں بھی زندگی سے دور اور موت سے قریب پہنچ چکا ہوں۔ دنیا میرے پیچھے ہے اور آخرت میرے آگے ۔ انسانوں کے درمیان کچھ دن گزار کر اب میں وہاں پہنچنے والا ہوں جہاں میرا سامنا رب العالمین سے ہوگا۔ دل سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، جس طرح تو نے موجودہ منزل تک حفاظت کے ساتھ پہنچایا ہے اسی طرح اگلی منزل تک بھی حفاظت کے ساتھ پہنچادے۔ دنیا سے آخرت تک میرے ساتھ خیریت کا معاملہ فرما۔ واپسی کے بعد شو لاپور سے جناب زاہد علی خاں صاحب کا خط ملا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: شولا پور میں آپ کے پروگرام کی رپورٹ مرہٹی میں مقامی اخبارات کو دے دی ہے۔ آپ سے شولاپور میں مختصر سی ملاقات ایک حقیقی خواب کی تعبیر دے گئی۔ واقعہ یہ ہے کہ سنجیدہ مشن ہی پیغمبرانہ مشن کی صحیح اتباع ہے۔ اللہ اور رسول کی مرضی حاصل کرنے کی کوشش پر چاہے کتنی ہی سخت مخالفت ہو ہر مومن کو آپ کا ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ دینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ آپ کو الرسالہ مشن کے سفر کی اعلیٰ ترین کامیابیاں صحت کاملہ کے ساتھ نصیب کرتا رہے۔ آمین ثم آمین۔ شولاپور کے پروگرام کو کامیاب بنانے میں جن لوگوں کا تعاون حاصل ہوا ان میں حسب ذیل حضرات خاص طور پر قابل ذکر ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader