بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 409
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ انہوں نے ایک جگہ لے کر وہاں اسلامی کتابوں کا اسٹال لگایا۔ ہندی اور انگریزی کتابیں دہلی سے لا کر یہاں رکھی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندو بہت کثرت سے ہمارے اسٹال پر آئے۔ انہوں نے دیکھا۔ باتیں کیں اور بہت سے ہندوؤں نے کتابیں خریدیں۔ آنے والوں میں سے ایک ہندو نے حسب ذیل تاثرات ہندی زبان میں لکھے، اسلام کو اپنی آتما سے تو جانا تھا، سمجھا تھا۔ پرنتو اس کا اتہاس یا مکھیہ کتاب قرآن نہیں پڑھا تھا۔ آپ کی یہ پردرشنی بہت اچھی لگی۔ تھا اس سے بہت اپیوگی کتابیں ملیں۔ ایسی پر درشنی ہر جگہ، ہر شہر میں کبھی کبھی ایسے موقعوں پر لگتی رہنا چاہئے تاکہ ایک دوسرے کے دھرم کو اچھی طرح سمجھا جاسکے۔ گیان چند شرما، بال وکاس پریوجنا ادھیکاری، گھاری، بلاسپور ۔ مولانا ممتاز صاحب ۱۹۶۳ سے شملہ میں مقیم ہیں۔ وشو سیده بیگيه ( ۲۲ - ۲۶ مئی ۱۹۹۴) کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ بہت کامیاب رہا۔ دوسری ہندی کتابوں کے علاوہ ۵۵ عدد ہندی ترجمہ قرآن لوگوں نے حاصل کئے بک اسٹال پر بیگیم کے ایک بڑے مہاتما آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو تو آپ کا یہ اسلامی بک اسٹال بہت اچھا لگا۔ اب بتائیے کہ آپ کو ہمارا یہ گیہ کیسا لگا۔ مولانا ممتاز صاحب نے کہا کہ ہم کو آپ کے بیگیم میں بہت بڑی کمی محسوس ہوئی۔ انہوں نے تعجب کے ساتھ پوچھا کہ وہ کیا۔ مولانا ممتاز صاحب نے کہا : جیسے ہم نے یہاں ہندی زبان میں اسلامی لٹریچر لا کر رکھا ہے اسی طرح آپ کو بھی اردو میں ہندو ازم پر لٹریچر یہاں رکھنا چاہئے تھا۔ سوامی جی اس جواب سے بہت متاثر ہوئے ۔ اور کہہ کر آپ نے جو کہا پیچ کہا۔ بالو گنج کی مسجد میں تین نمازیں پڑھیں — مغرب ، عشاء اور فجر۔ یہاں شام کو دیر تک نشست ہوئی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ یہ سلسلہ کئی گھنٹہ تک چلتا رہا۔ فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورہ البروج پڑھی۔ اس میں یہ آیت تھی۔۔۔ واللہ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحيط - فجر کے بعد میں نے اسی کو درس کا موضوع بنایا۔ میں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں۔ اللہ ان کے اور ان کے دشمنوں کے درمیان ہے۔ وہ دشمنان اسلام کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس میں ہمارے لئے بہت بڑی خوش خبری ہے۔ یہ آیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader