Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 410

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل ایمان کے لئے حوصلہ کی آیت ہے۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلم دانشوروں اور رہنماؤں نے دعوت کے لئے کوئی مثبت کام تو نہیں کیا۔ البتہ انھوں نے دعوت کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ ہندوستان میں ایسی قومی پالیسی اختیار کی گئی جس کے نتیجہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان گہری نفرتیں پیدا ہو گئیں۔ یورپ میں مختلف واقعات کے نتیجہ میں غیرمسلموں کے اندر شدید غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں۔ میں نے کہا کہ یہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ اس لئے مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کو اپنی کارروائیوں میں سخت احتیاط کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر ، سلمان رشدی کے معاملہ میں تمام لوگوں نے جو موقف اختیار کیا اس کا مثبت نتیجہ تو کچھ نہیں نکلا۔ البتہ میڈیا کی رپورٹنگ کے نتیجہ میں وہ ساری دنیا میں اسلام کی بدنامی کا سبب بن گیا۔ اب مسلمان میڈیا کی شکایت کر رہے ہیں ، حالاں کہ اس قسم کی شکایت غلطی پر مزید سادہ لوحی کا اضافہ ہے۔ ایک صاحب سے آر ایس ایس کے سلسلہ پر بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں آر ایس ایس کو مسلمانوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آر ایس ایس اپنی عمر پوری کر کے اب ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ باعتبار ڈھانچہ زندہ ہے نہ کہ باعتبار تحریک۔ آرایس ایس ۱۹۲۵ میں قائم ہوئی۔ اس وقت انڈیا زرعی دور میں تھا ۔ لوگوں کے پاس کافی وقت تھا۔ وہ صبح سویرے سے بڑی تعداد میں شاکھاؤں میں شریک ہوئے تھے۔ مگر اب انڈیا صنعتی دور میں پہنچ چکا ہے۔ اب لوگوں کے پاس اس قسم کی لکڑی کے لئے وقت نہیں ہے۔ چنانچہ آپ آرایس ایس کو قریب سے دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں زیادہ بوڑھے لوگ ہیں۔ نوجوان طبقہ اب آرایس ایس کی طرف رخ نہیں کر رہا ہے۔ آرایس ایس کے رہنماؤں کی قدیم کتابوں میں خواہ جو الفاظ بھی لکھے ہوئے ہوں ، مگر آرایس ایس اب ایک ختم شدہ طاقت (spent force) ہے ۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت کھو چکی ہے کہ وہ کسی کے لئے خطرہ بن سکے۔ شملہ کی مال روڈ یہاں کی بہت خاص سڑک سمجھی جاتی ہے۔ مولانا ممتاز صاحب اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ میں مال روڈ سے گزر رہا تھا۔ اس سڑک پر ایک جگہ بلندی پر لالا لاچپت رائے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page