بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 411
By Maulana Wahiduddin Khan
اسٹیچو لگا ہوا ہے۔ اس اسٹیچو میں ان کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ ان کا بایاں ہاتھ کمر سے اٹھا ہوا ہے۔ اور دایاں ہاتھ اس طرح اٹھارکھا ہے کہ ہاتھ کی ایک انگلی (شہادت کی انگلی) اوپر آسمان کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ مولانا ممتاز صاحب نے بتایا کہ ایک بار میں اپنے ایک ہندو واقف کار کے ساتھ اس سڑک سے گزر رہا تھا۔ ہم لوگ اس اسٹیچو کے سامنے پہنچے تو ہندو ساتھی نے کہا: ایک انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر لا لجی کیا کہہ رہے ہیں۔ مولانا ممتاز صاحب نے جواب دیا: وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ ہندو ساتھی نے یہ سنا تو ہنس کر بولا کہ یہاں بھی تم نے اپنے دھرم کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے ہے کہ آدمی کے اندر اگر دعوتی ذہن ہو تو کس طرح وہ ہر موقع پر اپنی بات کہنے کے مواقع پا سکتا ہے۔ یہاں ایک مسلم خاتون عائشہ نے مخصوص حالات میں ایک ہندو ڈاکٹر کیدار ناتھ سے شادی کر لی۔ چند سال پہلے ہندو ڈاکٹر کا انتقال ہو گیا۔ اپریل ۱۹۹۴ میں تقریباً ۸۰ سال کی عمر میں مذکورہ مسلم خاتون کا انتقال ہو گیا۔ مرتے وقت خاتون نے وصیت کی کہ مجھ کو جلایا نہ جائے بلکہ مسلم طریقہ پر مجھ کو قبرستان میں دفن کیا جائے۔ خاتون کے داماد نے ایسا ہی کیا۔ مولانا ممتاز احمد قاسمی نے خاتون کے ہندو داماد سے کہا کہ آپ سوچئے کہ وہ عورت جس نے اپنی پوری زندگی آپ لوگوں کے ساتھ ہندو فیملی میں گزاری، پھر وہ کون سی طاقت تھی جو موت کے وقت اس سے یہ کہلوا رہی تھی کہ مجھ کو دفن کیا جائے، مجھ کو جلایا نہ جائے۔“ یہ سن کر مذکورہ ہندو گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے مولانا ممتاز صاحب سے کہا کہ مجھ کو اسلامی لٹریچر دیجئے۔ میں اس کا مطالعہ کروں گا تاکہ اسلام کے بارہ میں واقفیت حاصل کروں۔ ۷ جولائی کی صبح کو ہم لوگ شملہ کی جامع مسجد دیکھنے کے لئے نکلے۔ مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ساڑھے نو بجے، ہم لوگ ایک گلی میں پہنچے جہاں ایک دروازہ پر جامع مسجد کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اندر داخل ہوئے تو بہت سے کشمیری مزدور بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے لئے مسجد کو یا مفت جانے قیام ہے۔ مسجد کے ذمہ دار بھی اس کو گوارا کئے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح مسجد آباد رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader