Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 413

By Maulana Wahiduddin Khan

(Hotel Pinewood) میں ٹھہرے۔ یہ ایک خوبصورت ہوٹل ہے جو پہاڑی کے دامن میں بنایا گیا ہے۔ راستہ میں ڈاکٹر چاری نے کئی سبق آموز باتیں بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جبلپور میں انگریز کلکٹر ہوا کرتا تھا۔ ایک بار شیعہ لوگوں نے آ کر کلکٹر سے کہا کہ جس راستہ سے ہمارا تعزیہ گزرنے والا ہے وہاں ایک درخت کی شاخ سڑک کے اوپر آ گئی ہے۔ ہم تعزیہ کی اونچائی کم نہیں کر سکتے۔ انگریز کلکٹر نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہم اس کو کٹوا دیتے ہیں۔ کلکٹر کے آدمیوں نے دیکھ کر کلکٹر صاحب سے کہا کہ یہ درخت تو پیپل کا درخت ہے۔ اس کی شاخ کاٹی جائے گی تو ہندو لوگ بگڑ جائیں گے۔ اب کلکٹر کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ آخر میں ایک تحصیلدار نے کہا کہ میری سمجھ میں ایک تدبیر آتی ہے۔ میں اس کو استعمال کرتا ہوں۔ تحصیل دار نے ایک ہاتھی والے کو پکڑا اور اس سے کہا کہ تم اس مسئلہ کو حل کرو۔ ہاتھی والے نے اپنا ہاتھی اس سڑک پر چلایا۔ ہاتھی درختوں کی پتیاں اور شاخیں توڑتا ہوا مذکورہ پیپل تک پہنچا۔ یہاں ہاتھی والے نے اپنے ہاتھی کو کچھ دیر روکا۔ ہاتھی نے اپنی سونڈ اِدھر اِدھر گھمائی۔ آخر کار اس نے مذکورہ شاخ توڑ کر گرا دی۔ ہاتھی چونکہ ہندوئوں کی نظر میں گنیش دیوتا کا روپ مانا جاتا ہے۔ اس لئے وہ ہاتھی کے عمل پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ شاخ راستہ سے ہٹ گئی۔ اور تعزیہ آسانی کے ساتھ اس سے گزر گیا۔ یہ سطریں واپسی میں ہوٹل پائن وڈ کے کمرہ نمبر ۱۰۳ میں بیٹھ کر لکھی گئیں۔ مسٹر چاری (سابق کلکٹر) نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ان کے چیف سکریٹری مسٹر اتار تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ضلع کلکٹر کے پاس کسی معاملہ سے نمٹنے کے لئے اتنے زیادہ ذرائع ہوتے ہیں کہ فورس کا استعمال اس کے لئے ناکامی کے ہم معنی ہے : Use of force means his failure. میں اضافہ کروں گا کہ ہر آدمی کے پاس خدا کے دئے ہوئے اتنے زیادہ ذرائع ہیں کہ اس کے لئے طاقت کا استعمال اس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ آدمی کی عقل بے حساب طاقتوں کا خزانہ ہے۔ یہ کلکٹر کی پولیس فورس سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ معاملہ پیش آنے کی صورت میں آدمی اگر حواس باختہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page