بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 414
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عثمان غنیؓ کے عہد میں حالات کے رخ نہ ہو، اور وہ اپنی عقل کو صحیح طور پر استعمال کرے تو وہ ہر چیز پر قابو پا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی آدمی اپنی عقل کو کام میں لانے کے بجائے اپنے ہاتھ میں پتھر اٹھاتا ہے یا اپنے ہاتھ میں گن سنبھالتا ہے تو یہ اس کی ہار کی بات ہے نہ کہ جیت کی بات۔ شملہ سے کالکا تک کا سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا، میں کار سک (car sick) ہوں چنانچہ مجھ کو دوبارہ چکر آنے لگا۔ اس کے بعد میں نے مسٹر چاری کو آگے کی سیٹ پر بٹھا دیا اور پیچھے کی سیٹ پر لیٹ گیا۔ لیٹنے کی وجہ سے بقیہ راستہ میں کافی سکون رہا۔ کالکا سے دوبارہ ہمالین کوئن کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ میری طبیعت چوں کہ ٹھیک نہیں تھی، اس لئے منتظمین نے ایک کیبن تنہا مجھ کو دیدیا۔ یہاں بھی دوبارہ لیٹے لیٹے سارا راستہ طے ہوا۔ ۷ جولائی ۱۹۹۴ کی رات کو گیارہ بجے، ہم لوگ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ میں دہلی سے شملہ گیا، اور شملہ سے دوبارہ واپس آیا۔ اوپر کی سطریں اسی سفر کی مختصر روداد ہیں۔ یہ ایک جسمانی سفر تھا۔ اس طرح ہر آدمی ذہنی سفر کرتا رہتا ہے۔ بعض اوقات ذہنی سفر کی اہمیت جسمانی سفر سے زیادہ ہوتی ہے، مگر شاید ذہنی سفر کی روداد کو انسانی زبان میں قلم بند کرنا ممکن نہیں۔ ذہنی سفر کی روداد کو الفاظ کی صورت دینے کے لئے، ہمیں اگلے مرحلۂ حیات کا انتظار کرنا چاہئے۔ دال روٹی سے گزارہ کرنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader