Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 416

By Maulana Wahiduddin Khan

نمبر ۱۸۱ میں داخل ہوں گے۔ دہلی سے جہاز تقریباً بوقت پر روانہ ہوا۔ آسمان کے کنارے شفق کی سرخی نظر آنے لگی۔ دھیرے دھیرے وہ غائب ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ روشن سورج افق پر نمایاں ہو گیا۔ حسب معمول میں کا غذ نکال کر کچھ تاثرات لکھنے لگا۔ میرے پاس بیٹھے ہوئے بزرگ نے کہا: آپ اردو لکھ رہے ہیں یا فارسی۔ میں نے پوچھا کیا آپ فارسی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ یہ مسٹر کند دوبے (Muchkund Dubey) تھے۔ وہ فارین سروس سے ۱۹۶۹ میں ریٹائر کر ہوئے۔ اب وہ دھلی میں رہتے ہیں (3718047 Tel)۔ انھوں نے بتایا کہ ملازمت کے زمانہ میں فارسی سیکھنے کے لئے انھیں ایران بھیجا گیا تھا۔ وہاں وہ ڈھائی سال رہے۔ انھوں نے اتنی کافی فارسی سیکھ لی کہ وہ فارسی میں تقریر کرنے لگے۔ میں نے ان سے کہا کہ فارسی کا کوئی مقولہ جو آپ کو یاد ہو بتائیے۔ انھوں نے شیخ سعدی کا یہ مقولہ لکھ دیا: چگونه شکر نعمت گزارم که مردم آنرا می ندارم (خدا کی نعمت کا میں کس طرح شکر ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا) ہماری پہلی منزل احمد آباد تھی۔ یہاں جہاز اترا تو میں باہر آگیا۔ احمد آباد کے مناظر دیر تک دیکھتا رہا۔ مجھے یاد آیا کہ پہلی بار میں ۱۹۷۱ میں احمد آباد آیا تھا۔ دہلی سے احمد آباد کا سفر میں نے ٹرین کے ذریعہ کیا تھا۔ واپسی ہوائی جہاز سے ہوئی۔ یہ ہوائی جہاز سے میرا پہلا سفر تھا۔ اس کے بعد سے اب تک میں ۱۰۰ سے زیادہ سفر ہوائی جہاز کے ذریعہ کر چکا ہوں۔ اور اگر آمدورفت دونوں کو ملا کر شمار کیا جائے تو ۲۰۰ سے زیادہ۔ احمد آباد کا یہ سفر اگست ۱۹۷۱ میں ہوا تھا۔ الجمعیتہ ویکلی۔ستمبر ۱۹۷۱ میں اس کی رو داد شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر نامہ کا ایک سبق آموز پیرا گراف یہ تھا: "یہاں میں ایک مسلم نوجوان سے ملا۔ وہ بزنس کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اپنا کام کتنے سرمایۂ سے شروع کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دس روپیہ سے۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اتنے کم سرمایۂ سے کس طرح کام کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا: زبان سچی ہو اور ایمان دل میں ہو تو سرمایۂ کی ضرورت نہیں۔ آپ زبان دے کر کتنا بھی سودا بازار سے اٹھا سکتے ہیں۔"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page