بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 415
By Maulana Wahiduddin Khan
برودہ کا سفر بڑودہ میں ۱۲-۱۳ نومبر ۱۹۹۹ کو ایک آل انڈیا سیمنار ہوا۔ اس سیمنار کا موضوع تھا_ ریلیجن اینڈ پالئی ٹیکس۔ اس کی دعوت پر بڑودہ کا سفر ہوا۔ بڑودہ (موجودہ نام وڈوڈرا) گجرات کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس شہر کا قدیم ریکارڈ ۶۸۱۴ کی ایک دستاویز میں پایا جاتا ہے۔ یہ وہی سال ہے جب کہ اس وقت کے سب سے بڑے اسلامی شہر بغداد کو ایک بڑی فوج اپنے گھیرے میں لے ہوئے تھی۔ یہ کسی دشمن کی فوج نہیں تھی بلکہ المامون کی فوج تھی جو اپنے بھائی الامین کو عباسی تخت سے ہٹانے کے لئے اس کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ تقریباً ایک سال کے محاصرہ کے بعد الامین کو قتل کر دیا گیا اور المامون عباسی سلطنت کا ساتواں خلیفہ بنا۔ بڑودہ کی آبادی پندرہ لاکھ ہے۔ اس میں تقریباً بیس فیصد مسلمان ہیں۔ پچھلے ہزار سال کے دوران یہ شہر مختلف سلطنتوں کے ماتحت رہا۔ اس اعتبار سے اس کا نام بھی بار بار بدلتا رہا۔ چنانچہ تاریخ میں اس شہر کے حسب ذیل مختلف نام پائے جاتے ہیں: Vadapadraka, Chandanavati, Varavati, Vatpatraka, Baroda, Vadodara. دہلی سے ہوائی جہاز کا وقت صبح ۶ بجے تھا۔ ۱۲ نومبر کو فجر سے پہلے گھر سے روانگی ہوئی۔ سڑکوں پر اور چاروں طرف سیکڑوں کی تعداد میں بجلی کے چھوٹے چھوٹے چھوٹی بلب جلتے ہوئے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ اگر سورج نکل آئے تو اچانک یہ تمام بلب یا تو بجھا دیئے جائیں گے یا اپنے آپ بے نور ہو جائیں گے _ حقیقتِ اعلیٰ کا ظہور وحدت پیدا کرتا ہے اور تعدد کو ختم کر دیتا ہے۔ تعدد کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ ختم ہو جائے۔ فجر کی نماز ساڑھے پانچ بجے ائیر پورٹ پر پڑھی۔ کچھ دیر کے بعد گیٹ کے اوپر لگے ہوئے شیشہ کے بورڈ پر جل اٹھا: Now Boarding - 817 اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہمارا جہاز تیار ہے۔ مسافر ایک ایک کر کے چل کر انڈین ایرلائنس کی فلائٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader